Sunday, September 26, 2021  | 18 Safar, 1443

جمال خشوگی قتل:عرب لیگ نےانٹیلیجنس رپورٹ مستردکردی

SAMAA | - Posted: Feb 28, 2021 | Last Updated: 7 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 28, 2021 | Last Updated: 7 months ago

فائل فوٹو

عرب لیگ کے ممالک نے مقتول صحافی جمال خشوگی کی قتل سے متعلق امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ کو مسترد کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت سمیت دیگر عرب ممالک نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے سعودی عرب مؤقف کی حمایت اور شہزادہ محمد بن سلمان کا ساتھ دینے کا اعادہ کیا ہے۔

اس سے قبل سعودی وزارت خارجہ نے جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ کو منفی اور غلط قرار دے کر رد کیا تھا۔

دوسری جانب پاکستان نے بھی امریکی انٹیلی جنس رپورٹ پر مؤقف ظاہر کردیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سعودی حکومت نے جمال خشوگی کے قتل میں ملوث کرداروں کو سزا دلوانے کیلئے اقدامات اٹھائے۔ سعودی حکومت نے اس معاملے میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے۔

دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان صحافی جمال خشوگی کے قتل میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کی سعودی عرب کی کاوشوں کو تسلیم کرتا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے۔ پاکستان قانون کی پاسداری اور قومی سالمیت و بقا کا احترام کرتا ہے، پاکستان تمام اقوام عالم کی جانب سے انسانی حقوق کی پاسداری کو فروغ دینے کا حامی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی رپورٹ میں الزام لگایا گیا تھا کہ سعودی اعلیٰ شخصیت نے اس آپریشن کی منظوری دی جس کا خاتمہ خاشوگی کے قتل پر ہوا۔ امریکی میڈیا کے مطابق جمال خاشقجی کو 2018 میں استنبول کے سعودی سفارت خانہ میں قتل کیا گیا تھا۔

امریکی انٹیلی جنس ادارے سی آئی اے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ 4 صفحات پر مشتمل ہے۔

عرب لیگ کا اپنے مؤقف میں مزید کہنا تھا کہ امریکا کے ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل انٹیلی جنس کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی کو مودہ الزام ٹھہرا کر اسے سزا دے یا پھر کسی کیس کا فیصلہ سنائے۔ انسانی حقوق کے مسائل کو سیاسی نہیں بنانا چاہیئے۔

عرب نیوز کے مطابق اس سے قبل پاکستان کی جانب سے بھی جمال خشوگی کے قتل پر سعودی مؤقف کی حمایت کی گئی تھی۔

امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ میں سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جمال خشوگی کو آخری بار ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا گیا تھا، جہاں سے وہ کبھی باہر نہیں آئے۔

امریکی نشریاتی ادارے کی جانب سے انٹیلی جنس رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سعودی شہزادے کا کہنا تھا کہ خشوگی کو یا تو گرفتار کیا جائے یا اسے مار دیا جائے۔ سعودی شہزادے کا یہ بھی کہنا تھا کہ تشدد کے ذریعے ہمیں اس آواز کو ختم کرنا ہوگا۔

قتل کے 2 سال بعد رپورٹ آفس آف ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ سی آئی اے کی اطلاعات اور تحقیقات پر مبنی اس رپورٹ میں ایسی 3 وجوہات بیان کی گئی ہیں جن کی بنیاد پر یہ کہا گیا ہے کہ ولی عہد نے آپریشن کی منظوری دی تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سال 2017 کے بعد سے محمد بن سلمان نے سعودی عرب کی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس آپریشنز پر مکمل کنٹرول حاصل کیا تھا جس کی وجہ سے یہ ممکن نہیں کہ سعودی حکام نے اس نوعیت کا آپریشن ان کی منظوری کے بغیر کیا ہو۔

امریکی کانگریس

کانگریس کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شیف نے جوبائیڈن انتظامیہ پر زور دیا کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ رپورٹ میں جنہیں ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ کمیٹی کے رکن سینیٹر رون وائیڈن سعودی ولی عہد کے علاوہ سعودی عرب پر بھی پابندیوں کا مطالبہ کیا۔

سعودی شخصیات پر پابندیاں

انٹیلی جنس رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد امریکا کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ادھر امریکی وزارت خارجہ نے 76سعودی شخصیات اور اہلکاروں پر ویزاپابندیاں عائد کردیں۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان سے فون پر رابطہ کیا جس میں انہوں نے امریکا کی جانب سے انسانی حقوق اور قوانین کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیا۔

امریکی حکام کے مطابق سعودی ولی پر پابندیاں نہیں لگائی جائیں گی۔ قتل میں کردار اداکرنے پر امریکا نے سابق سعودی انٹیلی جنس چیف احمد الاسیری ، سعودی ایلیٹ انٹیلی جنس یونٹ ریپڈ انٹرونشن فورس اور اس کے ا ہلکاروں پر بھی پابندیاں لگا دیں ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق وہ ان افراد اور یونٹس کے اثاثے منجمد کردے گا۔ چند ایسی سعودی شخصیات اور اہلکاروں پر بھی پابندی لگائی گئی ہے جو صحافیوں اور سیاسی مخالفین کے خلاف سرحدوں سے باہر مذموم سرگرمیاں سرانجام دیتے ہیں، جن میں ہراساں کرنا، نگرانی کرنا، دھمکی دینا یا جسمانی نقصان پہنچانا شامل ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہاکہ غیر ملکی حکومتوں کے کہنے پر صحافیوں، سماجی کارکنان کو دھمکانے کے اقدامات کو برداشت نہیں کیاجائے گا۔ سعودی عرب کی جانب سے سیاسی مخالفین اور صحافیوں کو ماورائے سرحد دھمکانے اور حملے کرانے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔

بائیڈن کا فرماں رواں کو فون

اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے سعودی شاہ سلمان کو ٹیلی فون کیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر بائیڈن نے سعودی شاہ کو یقین دلایا کہ دوطرفہ تعلقات کو ہر ممکن حد تک مضبوط اور شفاف بنانے کیلئے وہ کام کریں گے ۔ بات چیت کے دوران انہوں نے جمال خشوگی رپورٹ کا کوئی ذکر نہ کیا۔ دوسری جانب سعودی عرب نے امریکی رپورٹ کو یکسر مسترد کردیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube