کیا بھارت میں پہلی بار خاتون کو پھانسی دی جائیگی

SAMAA | - Posted: Feb 20, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 20, 2021 | Last Updated: 2 months ago

بشکریہ انڈیا ٹو ڈے

اپنے ہی اہل خانہ کے اجتماعی قتل میں ملوث مجرم شبنم اور اس کے ساتھی سلیم کو بھارتی عدالت کی جانب سے سزائے موت کا حکم دیا گیا ہے۔ تاہم سزا پر عمل درآمد کا فیصلہ دائر پٹیشنز سے مشروط ہوگا۔

بھارتی میڈیا سے جاری خبروں کے مطابق شبنم اور سلیم کو سال 2010 میں یو پی کے سیشنز کورٹ کی جانب سے سزا سنائی گئی تھی۔ جس کے بعد شبنم کی جانب سے دو بار بھارتی صدر اور الہٰ آباد کے ہائی کورٹ میں متعدد بار اپیلیں دائر کی گئیں مگر اس کی سزا کو برقرار رکھا گیا۔

دوسری جانب عدالت کے حکم پر بھارتی جیل متھورا میں شبنم کی پھانسی کی تیاریاں شروع کرد گئی ہیں، جسے ڈیٹھ وارنٹ ملتے ہی پھانسی پر لٹکا دیا گیا جائے گا۔

جلاد

جیل میں پھانسی کی تیاریوں کا انداز اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پھانسی دینے والے جلاد پون کی جانب سے بھی متھرا جیل میں پھانسی کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ وہ ہی جلاد ہے جس نے مشہور دہلی گینگ ریپ کے 4 ملزمان کو سال 2020 مارچ میں پھانسی پر لٹکایا تھا۔

یو پی میں امروہا ڈسٹرکٹ کے گاؤں بھاون کیتھری سے تعلق رکھنے والی 38 سالہ شبنم پر اپنے ماں ، باپ، بڑا بھائی، بھائی کی اہلیہ، ان کے دو چھوٹے بچوں 14 سالہ رابعہ اور 10 ماہ کا بیٹا عرش اور شبنم کے چھوٹے بھائی کو قتل کے جرم پر سزا سنائی گئی ہے۔ شبنم نے اپنے دوست سلیم کے ساتھ مل کر گھر والوں کو ذبح کیا تھا۔

شبنم کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے بعد ہمارے گاؤں میں آج تک کسی نے اپنی بیٹی کا نام شبنم نہیں رکھا۔

فائل فوٹو

اگر شبنم کو پھانسی دے دی گئی تو یہ بھارت بننے کے بعد پہلا کیس ہوگا، جس میں خاتون کو پھانسی دی گئی۔ جس جیل میں شبنم کو رکھا گیا ہے، یہ جیل تقریباً 150 سال پرانی ہے۔ جب کہ جیل کا یہ حصہ جس میں شبنم کو رکھا گیا ہے وہ واحد قید خانہ ہے جہاں خواتین کو پھانسی دینے کا انتظام موجود ہے۔

بشکریہ بزنس اسٹینڈرڈ

بھارتی ذرائع ابلاغ سے جاری خبروں میں یہ بتایا گیا ہے کہ شبنم کی جانب سے اجتماعی قتل کی یہ لرزہ خیز واردات سال 2008 اپریل میں رونما ہوئی۔ اس دنوں شبنم ایک اسکول میں بطور استاد پڑھایا کرتی تھی، جس نے انگریزی اور جغرافیہ میں ڈبل ماسٹرز کی تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔

شبنم کی زندگی بالکل ٹھیک ٹھاک چل رہی تھی کہ پھر اس کی زندگی میں سلیم آیا، سلیم ان کے گھر کے سامنے بنی دکان میں کام کرتا تھا، جو بامشکل 3 جماعتیں پاس تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شبنم کے گھر والوں کو اس کا سلیم سے ملنا جلنا پسند نہ تھا۔

بھارتی پولیس کے مطابق شبنم نے قتل سے قبل پہلے اپنے گھر والوں کو کھانے میں نشہ آور چیز کھلا کر بے ہوش کیا، جس کے بعد اس نے سلیم کو گھر میں بلایا اور سلیم نے تیز دھار آلے سے ان کی گردنیں تن سے جدا کی۔ اس دوران شبنم اپنے دوست کی مدد کرتی رہی اور تمام افراد کو قتل کے دوران ان کا سر پکڑتی رہی۔

شبنم کا آبائی گھر، بشکریہ انڈیا ٹوڈے

قتل کی اس واردات کے بعد دونوں وہاں سے فرار ہوگئے۔ واقعہ کی اطلاع سامنے آنے پر دونوں کی تلاش شروع ہوئی اور پولیس نے انہیں 5 روز بعد گرفتار کرلیا۔ تمام ثبوتوں اور گواہوں کی روشنی میں دونوں پر کیس چلا اور عدالت کی جانب سے انہیں سزائے موت سنائی گئی۔ سلیم کو نینی جیل الہٰ آباد جب کہ شبنم کو متھورا جیل میں رکھا گیا ہے۔

پولیس کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس وقت شبنم کو گرفتار کیا گیا، وہ 7 ماہ کی حاملہ تھی، دونوں کے بچے کی پیدائش جیل میں ہی ہوئی، تاہم بچے کو بڑا ہونے پر تربیتی مرکز منتقل کردیا گیا ہے۔ جیل قوانین کے مطابق کوئی بھی قیدی 5 سال سے بڑے بچے کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا۔

میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شبنم کے 12 سالہ بیٹے کی جانب سے بھارتی صدر رام ناتھ کووند سے رحم کی اپیل کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ان کی والدہ کو معاف کیا جائے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ اور دیگر جگہوں پر کی گئی شبنم کی اپیلیں مسترد کردی گئی تھیں۔

دوسری جانب سپریم کورٹ سے درخواست مسترد کیے جانے کے بعد رام پور کے جیل سپرنٹنڈنٹ نے امروہہ نے بھی سیشن کورٹ سے 6 مارچ 2020 کو درخواست کی تھی کہ شبنم کا ڈیتھ وارنٹ جاری کیا جائے۔ جس کے بعد گزشتہ ماہ 28 جنوری 2021 کو دوبارہ درخواست ارسال کی۔ بھارتی ماہر قانون کے مطابق عام طور پر جیل سپرنٹنڈنٹ ڈیتھ وارنٹ کیلئے خط لکھنے کا مجاز نہیں، بلکہ نچلی عدالتیں اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے کے بعد وارنٹ جاری کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ سال 2018  کی جاری کردہ بھارتی رپورٹ کے مطابق اس وقت بھارت میں 12 خواتین سزائے موت کی منتظر ہیں اور سب کی سب پسماندہ برادریوں سے تعلق رکھتی ہیں۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

  1. HASAN Jamal  February 22, 2021 4:52 am/ Reply

    سیدھی سیدھی بات ۔ جیسا جرم ویسی سزا۔

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube