Tuesday, June 22, 2021  | 11 ZUL-QAADAH, 1442

ٹیکساس سمیت کئی ریاستیں تاریخ کے بدترین طوفان کی زد میں

SAMAA | - Posted: Feb 19, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 19, 2021 | Last Updated: 4 months ago

لاکھوں افراد بجلی سے محروم

امریکا کی کئی ریاستوں میں برفانی طوفان کے باعث 47 افراد ہلاک، جب کہ کئی لاکھ افراد بجلی اور پانی سے محروم ہوگئے، جب کہ امریکا کا 73 فیصد حصہ برفانی طوفان سے متاثر ہے۔

امریکا 15 فروری پیر سے شروع ہونے والے برفانی طوفان نے نطام زندگی بری طرح مفلوج کرکے رکھ دیا، خون جما دینے والی سردی اور اس میں بغیر بجلی اور پانی کے گزارا گویا کوئی خوفناک خواب لگتا ہے، تاہم یہ حقیقی صورت حال اس وقت امریکی ریاست ٹیکساس کے مکین جھیل رہے ہیں۔

ریاست ٹیکساس سمیت دیگر ریاستوں کو سخت برفانی موسم کا سامنا ہے جس نے بجلی ، پانی، گیس اور ٹیلیفون وغیرہ جیسی یوٹیلیٹی سروسز کی فراہمی معطل کر دی ہیں، جب کہ لاکھوں افراد سردی سے ٹھٹھر رہے ہیں، ان میں وہ شہری بھی شامل ہیں، جو کرونا کے باعث صحتی مراکز یا اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آنے والے سالوں میں امریکا میں ایسے طوفان متواتر آتے رہیں گے۔

اوکلاہاما، آرٹک بلاسٹ کی وجہ سے درجہ حرارت منفی چودہ ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا۔ شدید سردی کا انداز اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قدرتی گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس اور ہوا سے چلنے والی ٹربائنز تک منجمد ہوگئی ہیں۔ ایک سو ملین سے زیادہ افراد، ایسے علاقوں میں ہیں جہاں سرد موسم کا انتباہ جاری کیا گیا ہے اور آئندہ چند دنوں تک ملک کے کچھ حصوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہے گی۔

ٹیکساس اور کینٹکی کی ریاستوں میں بجلی کی مانگ میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جو اس سے پہلے کبھی اس موسم میں نہیں ہوا۔ ٹیکساس کے شہریوں کو اس سے قبل ایسی صورت حال کا کبھی سامنا نہیں رہا ہے۔ ضروری اشیا کی خرید و فروخت کیلئے اسٹورز کے باہر لوگوں کی قطاریں لگ گئیں۔ جب کہ اسٹورز کے اندر جانے کیلئے لوگوں کو سخت برفباری میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

[caption id="attachment_2194424" align="alignright" width="900"] بشکریہ نیویارک ٹائمز[/caption]

امریکی میڈیا کے مطابق ٹیکساس اور کینٹکی کی ریاستوں میں سڑکوں پر گاڑیاں پھسلنے سے کم ازکم 15 افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جب کہ دیگر پھسلنے کے واقعات میں درجنوں ٹرکوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کئی ریاستوں میں عہدے داروں نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ہی رہیں اور ہائی ویز پر جانے سے گریز کریں۔ سڑکوں پر برف جمنے سے گاڑی ڈرائیو کرنا ڈرائیورز کیلئے دشوار ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت تقریباً 15 کروڑ امریکی موسم سرما کے طوفان یا اس کے ممکنہ خطرے کی زد میں ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کے ساحلی علاقوں سے لے کر ٹیکساس اور الاسکا تک کے علاقے سردی کی شدت سے متاثر ہوئے ہیں۔

[caption id="attachment_2194404" align="alignright" width="900"] بشکریہ نیویارک ٹائمز[/caption]

سرے کیوز یونیورسٹی میں الیکٹرکل انجینیرنگ اور کمپیوٹر سائینسز کی اسسٹنٹ پروفیسر سارہ ایفتک کارنیجاد کا کہنا ہے کہ یہ یقیناً غیر معمولی طوفان تھا، لیکن ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ اب زیادہ تواتر سے رونما ہو سکتا ہے۔

[caption id="attachment_2194444" align="alignright" width="900"] بشکریہ نیویارک ٹائمز[/caption]

امریکا میں سخت موسمی صورت حالات کا مقابلہ کرتے اور کرونا کا شکار ایسے بھی مریض ہیں، جن کے اپنے ان کے ساتھ نہیں۔ اس موقع پر امریکا بھر سے شہریوں نے اولڈ ہاؤسز میں ان افراد کی خیریت دریافت کرنے کیلئے ریکارڈ کالز کیں۔ صرف یہ ہی نہیں مشکل کی اس گھڑی میں صاحب استطاعت افراد کی جانب سے مستحقین کو نہ صرف کالز کی گئیں بلکہ انہیں راشن بھی پہنچانے کا انتظام کیا گیا۔

[caption id="attachment_2194414" align="alignright" width="900"] بشکریہ نیویارک ٹائمز[/caption]

کئی ریاستوں میں ایمرجنسی کی صورت حال نافذ کرکے نیشنل گارڈز کو طلب کرلیا گیا ہے۔ ریاست مسی سیپی میں سڑکوں پر برف باری اور بارش کے باعث متعدد پھسلن کے حادثات رونما ہوئے۔ برف باری سے سیکڑوں پروازیں معطل ہو گئیں اور 20 لاکھ سے زیادہ افراد شدید سردی میں بجلی سے محروم ہو گئے، جو ان لوگوں کے لیے خاص طور پر ایک مشکل صورت حال تھی جن کے گھر بجلی سے گرم ہوتے ہیں۔

[caption id="attachment_2194409" align="alignright" width="900"] بشکریہ نیویارک ٹائمز[/caption]

ریاست اوریگن کی گورنر کیٹ براؤن نے بتایا ہے کہ پیر کی شام ریاست میں3 لاکھ سے زیادہ افراد کے گھروں میں بجلی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں بڑے پیمانے پر پھیلنے والی جنگل کی آگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کو بجلی سے محروم ہونا پڑا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق طوفان کی شدت اب شمال مشرق کی جانب بڑھ رہی ہے، جس کے بعد اوہائیو اور نیو انگلینڈ میں بھی ایسی ہی صورت حال متوقع ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube