Sunday, September 26, 2021  | 18 Safar, 1443

شوہر کے قتل میں والد کا ہاتھ نہیں تھا،دختر صدام حسین

SAMAA | - Posted: Feb 18, 2021 | Last Updated: 7 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 18, 2021 | Last Updated: 7 months ago

عراق کے سابق صدر صدام حسین کی صاحب زادی رغد صدام حسین کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر حسین کامل کے قتل میں ان کے والد سمیت خاندان کا کوئی فرد ملوث نہیں تھا۔

العربیہ نیوز چینل نے رغد حسین کے خصوصی انٹرویو کا دوسرا حصہ نشر کیا ہے جس میں رغد نے اپنے والد کے چچا زاد بھائی حسین کامل سے اپنی شادی اورطلاق کے حوالے سے گفتگو کی۔ حسین کامل عراق میں ملٹری انڈسٹری اتھارٹی کے سربراہ تھے اور صدام حسین کے بعد وہ ملک کی دوسری طاقتور شخصیت سمجھے جاتے تھے۔

رغد نے اپنے حیسن کامل کی ٹارگٹگ کلنگ میں بھائی عضی اور والد صدام حسین کے کردار کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ ان شوہر کے قتل کا فیصلہ قبائلی سرداروں کا تھا جس میں ان کے خاندان کے کسی فرد کو کوئی ہاتھ نہیں تھا۔

انہوں‌ نے بتایا کہ ان کے والد نے ان کی شادی 15 برس کی عمر میں ان سے کئی سال بڑے حسین کامل سے کروادی تھی تاہم کم سنی کے باجود انہوں نے شوہر کی رضامندی کے بغیر اپنی تعلیم جاری رکھی۔

رغد کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر اور والد کے درمیان اختلافات کی وجہ سے انہیں عراق چھوڑ کر اردن جانا پڑا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے شوہر نے عراق سے جاتے وقت مجھ سے مشورہ کیا اور مجھے بھی احساس ہوا کہ میں اگر عراق میں رہی تو میرے شوہر اور والد کے درمیان خون کی ندیاں بہہ نکلیں گی۔

ان کے بقول وہ نہیں جانتی تھیں کہ ان کے شوہر سن 1995 میں اردن جا کر نیوز کانفرنس میں کیا اعلان کرنے والے ہیں۔ تاہم اپنے والد کے خلاف شوہر کے بیانات پر انہیں بہت غصہ آیا اور انہوں نے اس بات پر حسین کامل سے کافی جھگڑا بھی کیا۔ رغد نے مزید بتایا کہ ان حالات میں وہ اپنے والد کے پاس لوٹنے کے لیے گھر بار اور بچے چھوڑنے پر تیار تھیں۔

شوہر کی عراق واپسی سے متعلق سوال پر رغد نے بتایا کہ میں نے انہیں عراق لوٹنے پر مجبور نہیں کیا بلکہ وہ عراق کی محبت اور دوسرے چند معاملات کی وجہ سے عراق خود لوٹے۔

انٹرویو کے دوران اپنے شوہر سے طلاق جیسے حساس عائلی معاملے پر بھی کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ شوہر سے طلاق میرے لیے غیر متوقع نہیں تھی کیونکہ حالات جس نہج پر پہنچ چکے تھے اس میں وہی ہونا تھا۔

عراق کی تقسیم کے بارے میں رغد نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ان کا ملک اس مقام تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ عراق کو متحد رکھنے پور زور دیا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube