Saturday, June 12, 2021  | 1 ZUL-QAADAH, 1442

اویغرپر رپورٹنگ، چین نے بی بی سی پر پابندی لگادی

SAMAA | - Posted: Feb 11, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 11, 2021 | Last Updated: 4 months ago

اویغر مسلمانوں کیلئے آواز اٹھانا بی بی سی کو مہنگا پڑ گیا، چین نے برطانوی نشریاتی ادارے پر پابندی لگادی۔

چین کی ریگولیٹری اتھارٹی نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس نے بی بی سی ورلڈ نیوز کی نشریات پر پابندی لگادی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ چینل نے اپنے مواد میں ملک میں رپورٹنگ کیلئے وضع کردہ رہنماء اصولوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔

چین کے نیشنل ریڈیو اور ٹیلی ویژن ایڈمنسٹریشن (این آر ٹی اے) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بی بی سی ورلڈ نیوز نے چین کے بارے میں نشریاتی قواعد و ضوابط کی ’’سنگین خلاف ورزی‘‘ کی ہے، جس میں’’خبروں کا سچا اور منصفانہ ہونا‘‘ اور ’’چین کے قومی مفادات کو نقصان نہ پہنچنا‘‘ ضروری ہونا چاہئے۔

یہ قدم بی بی سی کی 3 فروری کو نشر ہونیوالی اویغر مسلمان خواتین کے ساتھ چینی کیمپوں میں جنسی زیادتی اور تشدد سے متعلق رپورٹ کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

بیجنگ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ این ٹی آر اے چین میں بی بی سی کو نشریات جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیگا اور اس کی سالانہ نشریات کی درخواست کو بھی قبول نہیں کرے گا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے چین کے اقدام پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بی بی سی دنیا کا سب سے زیادہ معتبر نشریاتی ادارہ ہے اور دنیا بھر سے ملنے والی خبروں کی منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور کسی خوب اور حمایت کے بغیر رپورٹنگ کرتا ہے۔

طویل تحقیقات اور عینی شاہدین سے ملنے والی مصدقہ اطلاعات پر مبنی رپورٹ میں بی بی سی کا کہنا ہے کہ چین کے مغربی علاقے سنکیانگ میں پولیس اور گارڈز پر زیر حراست خواتین سے منصوبہ بندی کے تحت ریپ، جنسی زیادتی اور تشدد کا الزام ہے۔

یہ خطہ بنیادی طور پر مسلم اویغور اقلیت کا گھر ہے اور یہاں حالیہ برسوں میں علیحدگی پسندی کے الزامات پر چینی افواج کا زبردست کریک ڈاؤن دیکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں بجلی کے جھٹکوں سے ہونے والے تشدد کو بیان کیا گیا ہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اس علاقے میں خواتین اجتماعی عصمت دری اور زبردستی نس بندی کا نشانہ بنی ہیں۔

انسانی حقوق کے گروپوں کا خیال ہے کہ سنکیانگ میں کم از کم دس لاکھ اویغور اور ترکش زبان بولنے والے مسلمان کیمپوں میں قید ہیں۔

چین کی وزارت خارجہ نے بی بی سی کی رپورٹس کو جھوٹا قرار دیا تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube