عجیب کہانی:بیٹے نے بچھڑی ماں کو60سال بعد ڈھونڈ نکالا

SAMAA | - Posted: Feb 9, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 9, 2021 | Last Updated: 2 months ago

افریقی ملک الجزائر کے ایک ماں بیٹے کی عجیب کہانی سامنے آئی ہے جس کے مطابق جس بچے کو اس کی صرف 2 ماہ کی عمر میں چھوڑگئی تھی اس نے اپنی جنت کو بالآخر 60 سال بعد ڈھونڈ ہی نکالا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق الجزائر کی خاتون یمینہ اپنے شوہر کے ظلم وتشدد سے بچنے کے لیے اپنے دو ماہ کے بچے عبدالرحمان اور اپنے گھر بار کو چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ اس وقت خاتون کی عمر 20 برس تھی اور وہ بچہ اس کی اکلوتی اولاد تھا۔

گھر چھوڑنے کے بعد وہ الجزائر میں ایک فرانسیسی خاندان کے پاس کام کاج کرنے لگی اور پھر وہاں سے وہ اپنے شوہر اور بچے دونوں سے بہت دور فرانس پہنچ گئی۔

وقت گزرتا رہا اور عبدالرحمان ماں کے بغیر بڑا بھی ہوگیا لیکن ماں کی یاد اور اس کی تلاش میں وہ ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہیں رہا۔ جب وہ 14 سال کی عمر کو پہنچا تو اس نے اپنی ایک خالہ جو اس کی ماں سے رابطے میں تھی کی مدد سے ماں کی تلاش شروع کی لیکن اسے کامیابی نہ مل سکی تاہم اس نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی کوشش جاری رکھی۔

طویل مدت تک ماں کو تلاش کرنے کے بعد ایک روز عبدالرحمان کو پتہ چلا کہ اس کی ماں فرانس کے جنوب مشرقی شہر لیون میں ہے اس وقت وہ خود بیلجیم میں تھا لیکن وہ فوراً ہی ماں کی جانب چل پڑا تاہم اسے وہاں جاکر ایک دھچکا لگا۔

جب وہ لیون پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ اس کی ماں ایک اولڈ ہوم میں ‌ہے اور اسے دماغی فالج کا عارضہ لاحق ہوچکا ہے۔ ماں کی اس وقت عمر 93 سال جبکہ 2 ماہ کی عمر سے مامتا سے محروم عبدالرحمان اب 73 برس کا ہے۔ بہرحال عبدالرحمان نے اپنی گم شدہ ماں سے ملاقات کی اور اس موقع پر ان کی ویڈیو برسلز میں الجزائری قونصل خانے کی طرف سے نشر بھی کی گئی۔

اس ویڈیو میں عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ اس کا باپ بہت سخت گیر تھا اور ماں کو مارتا پیٹتا تھا جس کی وجہ سے ماں اسے اس کی دادی کے پاس چھوڑ کر گھرسے چلی گئی تھی اور ان سب باتوں کا پتہ اسے اس وقت چلا جب وہ 14 برس کی عمر کو پہنچا۔

عبدالرحمان نے بتایا کہ پھر اس نے اپنی ماں کی تلاش شروع کر دی اور اپنی کوشش کبھی ترک نہ کی اور نہ ہی کوئی دن ایسا گزرا جب وہ اس حوالے سے کسی مایوسی کا شکار ہوا ہو۔ اس کا کہنا تھا کہ مجھے ہمیشہ یہ یقین رہتا کہ میری ماں زندہ ہے اور مجھے ایک نہ ایک روز ضرور مل جائے گی۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ اس کی وہ تلاش تو پوری ہوئی لیکن خوشی ابھی غیر مکمل ہے کیوں کہ ڈاکٹروں نے ماں کو میرے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دی۔

دوسری جانب ماں یمینہ کا کہنا ہے کہ میں بالکل تنہا تھی اور میں نے کبھی الجزائر واپسی کی امید نہیں توڑی حتیٰ کہ اس مقصد کے لیے ایک مرتبہ ویزہ بھی حاصل کیا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube