فوجی بغاوت: نیوزی لینڈ نے میانمارسے تعلقات ختم کرلیے

SAMAA | - Posted: Feb 9, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 9, 2021 | Last Updated: 3 months ago

آنگ سان سوچی کے حق میں مظاہر

میانمار میں آنگ سان سوچی کے اقتدار پر فوجی قبضے کے بعد نیوزی لینڈ نے سفارتی تعلقات ختم کرلیے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن کا کہنا ہے کہ ہم نے میانمار سے سفارتی اور ملٹری رابطے منسوخ کردیے ہیں جبکہ میانمار کے فوجی حکام کے نیوزی لینڈ میں آنے پر پابندی ہوگی۔

میانمار: فوج نے سوشل میڈیا ایپس بلاک کردیں

کیوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سفارتی اور ملٹری رابطے کی منسوخی کے علاوہ فوج کو فائدہ پہنچانے والے امدادی پروگرام پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ یکم فروری کو فوج نے میانمار کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا، جس کے بعد فوجی جرنل آنگ ہوئنگ نے ملک بھر میں ایک سال ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا۔

میانمار: سول نافرمانی تحریک کا آغاز، اسپتالوں میں کام بند

بعد ازاں فوجی قیادت نے ملکی امور اور سرکاری کام کاج کے لیے 11رکنی کمیٹی تشکیل دی جس میں سارے فوجی شامل ہیں۔

فوج نے مارشل لا کے نفاذ کے بعد یہ بیان جاری کیا کہ آنگ سان سوچی نے گزشتہ برس ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کی جس کی وجہ سے اُن کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی بھاری اکثریت سے جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

دوسری جانب میانمار میں فوجی بغاوت کیخلاف عوامی سطح پر مظاہرے جاری ہیں جبکہ سوشل میڈیا سائٹس پر بھی پابندی عائد ہے۔

واضح رہے کہ بغاوت کے بعد سے اب تک نہ تو آنگ سان سوچی کی طرف سے اور نہ ہی صدر ون من کی طرف سے کوئی بیان سامنے آیا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube