گنج پن دورکرنے والی دوا کا استعمال خودکشی کا سبب بنتا رہا:رپورٹ

SAMAA | - Posted: Feb 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago

امریکی دوا ساز ادارے مرک کی تیارکردہ گنج پن دورکرنےکی دوا پروپیشیا کے استعمال سے خودکشی کے رجحانات دیکھنے میں آرہے تھے۔ نئی عدالتی دستاویز میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2011 میں دوا کی نئی قسم آنے کےبعد ادارے نے صارفین کو اس کے سائیڈ ایفکٹس سے آگاہ نہیں کیا تھا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دواساز ادارے مرک کی دستاویز میں پروپیشیا دوا کے استعمال سے جنسی پیچیدگیوں سمیت دیگر مضرصحت سائیڈ ایفکٹس سامنے آئے۔یہ تمام تفصیلات ان دستاویز میں موجود ہیں جو مرک ادارے نے جنوری کے آخری ہفتے میں جاری کیں۔ ان دستاویز کے لیے غیرملکی خبررساں ادارے کی جانب سے 2019 میں بروکلین کی عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پروپیشیا دوا کے دستیاب ہونے کے پہلے 14 برس ادارے کے دوران دوا استعمال کرنےوالوں میں خودکشی کے34 واقعات کی نشان دہی ہوئی جن میں 10 اموات شامل ہیں۔سال2011 میں سائیڈ ایفکٹس کی وارننگ کےبعد،فیڈرل ڈرگ اتھارٹی یہ دوا یا اس کی قسم استعمال کرنےوالوں میں 700 سے زائد شکایات موصول ہوئیں۔یہ شکایات اقدام خودکشی یا خودکشی کے خیالات رکھنے سے متعلق تھیں۔ ان میں تقریبا 100 اموات بھی شامل ہیں۔

امریکی ہیلتھ ڈیٹا کمپنی کے اعدادوشمار کےمطابق اس دوا کے لئے سال 2020 میں 24 لاکھ نسخے لکھے گئےجو سال 2015 کے مقابلے میں دگنے ہیں۔

یورپ اورکینیڈا میں اس دوا کو تیار کرنے والے اداروں نے بھی مردوں میں اس دوا کےاستعمال سےخودکشی کے رجحانات رپورٹ ہوئے تاہم اس دوا پر کی گئی تحقیق میں ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی۔ ابھی تک امریکا میں دستیاب اس دوا پر ایسا کوئی لیبل درج نہیں کہ دوا کے استعمال سے خودکشی یا ایسی خیالات پیدا ہوسکتے ہیں۔

سال 2009 تک ،مرک ادارے کو ڈپریشن کے ایسے 200 سے زائد کیسز کی اطلاع تھی جنھوں نے پروپیشیا دوا استعمال کی تھی۔ان میں خودکشی کے خیالات رکھنے والے افراد بھی شامل تھے۔ یہ اعدادوشمار اُس برس کی انٹرنل رسک مینجمنٹ کی رپورٹ میں موجود ہیں۔کمپنی نےفیصلہ کیا تھا کہ سنجیدہ نوعیت کےڈپریشن،خودکشی کےرجحانات سمیت کم شواہد ایسے تھے جن کی بنیاد پرسیفٹی ڈیٹا کی غیرمعمولی مانیٹرنگ کی جائے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کو مرک کی جانب سے موصول ہونے والے وضاحتی بیان میں بتایا گیا ہے کہ سائینٹیفک شواہد اس بات کی تصدیق کے لیے ناکافی ہیں کہ پروپیشیا استعمال کرنےوالےمردوں میں خودکشی یا اس کےخیالات سےمتعلق کوئی تعلق ثابت ہوا ہے،اس لئےدوا پرایسی کوئی وارننگ درج نہیں کی جاسکتی۔

ادویات پرتحقیق کرنےوالوں سمیت مریضوں کےوکلاء کا موقف ہے کہ مرک اورفیڈرل ڈرگ اتھارٹی نےدوا کے ساتھ منسلک جان لیوا نقصانات سے متعلق امریکی صارفین کواندھیرے میں رکھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube