Sunday, September 26, 2021  | 18 Safar, 1443

روس: اپوزیشن لیڈر کی کال پر مظاہرے اور دھرنے جاری

SAMAA | - Posted: Feb 1, 2021 | Last Updated: 8 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 1, 2021 | Last Updated: 8 months ago

فوٹو: اے بی سی نیوز

روس میں اپوزیشن لیڈر کی رہائی کے لیے روس کے مختلف شہروں میں مظاہروں اور دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے، پولیس نے 5 ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے۔

روس کی اپوزیشن لیڈر نیوالنی کے حامیوں کی طرف سے منگل کے روز اُن کے خلاف مقدمے کے آغاز پر ملک بھر میں مظاہروں کی کال دی  تھی۔

A large number of people walk on a street in snowy weather during a protest in Moscow, Russia.

دارالحکومت ماسکو اور دوسرے بڑے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں احتجاجی ریلی سے پہلے 5ہزار سے زائد کو زیر حراست لے لیا گیا۔

مظاہرے سے قبل ماسکو کی پولیس نے 7 میٹرو اسٹیشنز بند کرنے کا اعلان کیا تھا اور شہر کے مرکزی علاقوں کی طرف پیدل جانے والے لوگوں کی حرکت کو محدود کردیا تھا۔

اس موقع پر حکام کی طرف سے کئی دکانوں اور ریستورانوں کو بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا جب کہ شہر کے وسط میں ٹریفک کو بھی متبادل راستوں پر چلنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔

دارالحکومت ماسکو اور دوسرے بڑے شہر سینٹ پیٹرس برگ میں احتجاجی ریلی سے پہلے 5ہزار سے زائد افراد زیر حراست ہیں۔ یہ مظاہرے نیوالنی کی حال ہی میں جرمنی سے روس واپسی پر گرفتاری کے بعد سے ہی جاری ہیں۔

A policeman detains a protesters who is on the ground in the snow, while protesters try to help him.

اس سے قبل نیوالنی پر گزشتہ سال اگست میں زہر کے ذریعے جان لیوا حملہ کیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے انہیں علاج کے لیے جرمنی منتقل کیا گیا تھا۔

نیوالنی کو محکمہ جیل کی درخواست پر وطن واپسی پر ہی گرفتار کر لیا گیا تھا جس کا الزام تھا کہ نیوالنی نے 2014 میں منی لانڈرنگ کیس میں معطل کی جانے والی ساڑھے 3 سال قید کی سزا کے عوض عائد کی جانے والی شرائط پوری نہیں کیں۔

نیوالنی کا یہ مؤقف رہا ہے کہ اُن پر مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے جاتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ روس کے حزبِ اختلاف کے سینئر رہنما اور حکومت کے ناقد 44 سالہ الیکسی نیوالنی کو بے ہوشی کی حالت میں گزشتہ سال اگست میں روس سے جرمنی منتقل کیا گیا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube