Sunday, September 26, 2021  | 18 Safar, 1443

ڈینئل پرل قتل کیس:احمدعمرشیخ کیخلاف امریکامیں مقدمہ چلانےکی پیشکش

SAMAA | - Posted: Jan 29, 2021 | Last Updated: 8 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 29, 2021 | Last Updated: 8 months ago

مرکزی ملزم عمر شیخ کی فائل فوٹو

امریکی محکمہ خارجہ نے مقتول صحافی ڈینیئل پرل کیس میں گرفتار ملزمان کی رہائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس معاملے پر انصاف چاہتے ہیں۔ مرکزی ملزم احمد عمر شیخ کے خلاف امریکا میں مقدمہ چلانے پر تیار ہے۔ 

مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر امریکی محکمہ خارجہ کے سیکریٹری اینتھونیو بلنکن نے مقتول امریکی صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس میں گرفتار مرکزی ملزم احمد عمر شیخ سمیت دیگر ملزمان کی سپریم کورٹ آف پاکستان سے رہائی کے احکامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکی خارجہ سیکریٹری کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ مقتول صحافی کے اغوا اور قتل پر انصاف چاہتے ہیں۔ ملوث افراد کو بری کرنے کے فیصلے پر تشویش ہے۔ امریکا ماضی میں احمد عمر شیخ کی پاکستانی حکام کی جانب سے گرفتاری کے عمل کو سراہتا ہے۔ اس موقع پر پاکستانی حکام سے اپیل کرتے ہوئے امریکی سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم پاکستانی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فیصلہ پر نظرثانی کرے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔

امریکا کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان کی اعلیٰ عدالت کی طرف سے صحافی ڈینئل پرل کے قتل کے مقدمے میں رہا ہونے والے مرکزی ملزم احمد عمر شیخ کے خلاف امریکہ میں مقدمہ چلانے پر تیار ہے۔ ہم ڈینئل پرل کے خاندان کے لیے انصاف کے حصول اور دہشت گردوں کے احتساب کے لیے پرعزم ہیں۔

جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت کے فیصلے سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں، کہیں بھی دہشت گردی کا شکار بننے والے افراد کی دل آزاری ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے 28 جنوری بروز جمعرات امریکی صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس میں گرفتار مرکزی ملزم احمد عمر شیخ سمیت دیگر ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ تین رکنی بینچ میں ایک جج نے عدالتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔

جمعرات 28 جنوری کو ہونے والی سماعت میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے حساس معلومات کا سربمہر لفافے کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ احمد عمر شیخ کے کالعدم تنظیموں سے روابط ہیں۔ شواہد موجود ہیں لیکن ایسے نہیں کہ عدالت میں ثابت کرسکیں، ریاست کیخلاف جنگ کرنے والا ملک دشمن ہوتا ہے۔

Daniel Pearl

امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ سے وابستہ صحافی ڈینئل پرل کو 2002 میں کراچی میں اغوا کرنے کے بعد قتل کیا گیا تھا،(فائل فوٹو)۔

اس موقع پر جسٹس عمر عطا کا کہنا تھا کہ جو مواد سپریم کورٹ کو دیا وہ پہلے کسی فورم پر پیش نہیں ہوا، جو معلومات کبھی ریکارڈ پر نہیں آئیں ان کا جائزہ کیسے لیں؟ ریاست کے پاس معلومات تھیں تو احمد عمر شیخ کیخلاف ملک دشمنی کا کیس کیوں نہیں چلایا؟۔

جسٹس منیب اختر نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ حکومت نے احمد عمر شیخ کو کبھی دشمن ایجنٹ قرار ہی نہیں دیا۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، یہ جنگ کب ختم ہوگی کوئی نہیں جانتا۔ شاید آئندہ نسلوں تک چلے، ریاست کا اپنے شہریوں کو ملک دشمن قرار دینا بھی خطرناک ہے۔

گزشتہ 27 جنوری کی سماعت

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صحافی ڈینئل پرل قتل کیس کے مرکزی ملزم احمد عمر شیخ نے الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی صحافی کے اغوا اور قتل میں عطاالرحمان نامی شخص ملوث ہے۔ بدھ 27 جنوری کو ہونے والی سماعت میں احمد عمر شیخ کے وکیل نے مرکزی ملزم کا خط سپریم کورٹ میں پیش کیا تھا۔ عدالت میں پیش کے گئے خط میں احمد عمر شیخ نے لکھا تھا کہ عطاالرحمان پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہے اور اسے عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

فائل فوٹو: مرکزی ملزم احمد عمر شیخ کے وکیل

کیس کا پس منظر کیا ہے؟

امریکا کے اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے صحافی ڈینیئل پرل کو کراچی میں جنوری سال 2002 میں اغوا کیا گیا تھا جس کے بعد ان کی لاش اسی سال 2002 میں مئی میں برآمد کی گئی تھی۔

اس کیس میں پولیس نے 4 ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ان میں سے 3 ملزمان فہد نسیم، شیخ عادل اور سلمان ثاقب کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جب کہ مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ کو قتل اور اغوا کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

چاروں ملزمان نے سندھ ہائی کورٹ میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ جب کہ استغاثہ کی جانب سے مجرموں کی سزاؤں میں اضافے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

تاہم اس کیس میں اپیل پر فیصلہ آنے میں 18 برس کا عرصہ لگ گیا کیوں کہ ملزمان کے وکلا نہ ہونے کی وجہ سے اپیلوں کی سماعت تقریباً 10 برس تک بغیر کارروائی کے ملتوی ہوتی رہی۔

سندھ ہائی کورٹ نے 4 فروری 2020 کو 18 سال بعد اپیل پر فیصلہ سنایا تھا جس میں عدالت نے مقدمے میں گرفتار تین ملزمان کو بری جب کہ مرکزی ملزم کی سزائے موت کو سات سال قید میں تبدیل کرنے کا حکم دیا تھا۔

ملزم احمد عمر سعید شیخ 18 برس سے جیل میں ہی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ڈینئل پرل امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جنرل’ کے جنوبی ایشیا ریجن کے بیورو چیف تھے جو کراچی میں 23 جنوری 2002 کو اغوا ہوئے تھے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube