Friday, September 24, 2021  | 16 Safar, 1443

الجزائر پر مظالم: معافی نہيں مانگی جائیگی، فرانس

SAMAA | - Posted: Jan 21, 2021 | Last Updated: 8 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 21, 2021 | Last Updated: 8 months ago

فوٹو: الجزیرہ

فرانسيسی صدر میکرون نے الجزائر ميں نوآبادياتی دور ميں ڈھائے گئے مظالم پر معافی مانگنے سے انکار کرديا۔

فرانسیسی صدر کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں الجزائر میں نوآبادیاتی دور کی زیادتیوں کے حوالے سے سرکاری سطح پر معافی مانگے جانے کے امکان کو مسترد کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ الجزائر پر قبضے یا فرانسیسی حکمرانی کو ختم کرنے والی 8سالہ خوں ریز جنگ کے حوالے سے نہ تو ندامت کا اظہار کیا جائے گا اور نہ ہی معافی مانگی جائے گی۔

فرانسیسی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب فرانس کے نوآبادیاتی ماضی کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ شائع ہونے والی ہے اور اس بیان نے رپورٹ کے ممکنہ مندرجات کو بھی واضح کردیا ہے۔

صدر میکرون نے یہ بھی کہا ہے کہ فرانسیسی رہنما معافی مانگنے کے بجائے دونوں ممالک کے مابین مفاہمت کو فروغ دینے کیلیے علامتی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے جبکہ ائندہ برس الجزائر کی جنگ کے خاتمے کے 60برس مکمل ہونے پر 3روزہ تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن میں حکومتی شخصیات شرکت کریں گی۔

واضح رہے کہ الجزائر فرانس کی نوآبادی تھا اور وہاں اپنے قبضے کو طول دینے کے لیے پیرس حکومت نے 1954ء اور 1962ء کے درمیان ایک طویل جنگ لڑی تھی۔

فرانس نے انیسویں صدی کے دوران 1830ء میں الجزائر پر قبضہ کیا تھا اور یہ قبضہ 132سال بعد یعنی 1962ء میں ختم ہوا تھا۔

دوسری جانب الجزائری حکام کے مطابق اس جنگ میں 10لاکھ سے زائد افراد مارے گئے تھے۔ فرانسیسی مؤرخین بھی ڈھائی لاکھ افراد کے مارے جانے کا اعتراف کرتے ہیں۔

دونوں ممالک کے مابین 6عشرے گزرنے کے باوجود تعلقات کشیدہ ہیں۔ الجزائر نے فرانس سے مطالبہ کر رکھا ہے کہ وہ اپنے اقدامات کو قتل عام قرار دیتے ہوئے سرکاری سطح پر معافی مانگے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube