Saturday, March 6, 2021  | 21 Rajab, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

ٹرمپ کی اہلیہ نے وائٹ ہاؤس کی پرانی روایت توڑدی

SAMAA | - Posted: Jan 20, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jan 20, 2021 | Last Updated: 1 month ago

امریکا میں جہاں حالیہ صدارتی انتخابات کے موقع خصوصاً نتائج کے اعلان کے بعد فسادات اور حکومتی رویوں پر دنیا میں اس سپر پاور کی جگ ہنسائی ہوئی اور مہذب معاشروں میں اسے تنقید کی نظر سے دیکھا گیا وہیں اس کے صدارتی محل وائٹ ہاؤس کی بھی ایک روایت توڑی گئی جس پر خاتون اول میلانیا ٹرمپ پر سوشل میڈیا پر بھی خاصی نکتہ چینی ہوئی۔

غیر ملکی میڈیا م یں ہونے والی رپورٹس کے مطابق ایوان صد کی روایت رہی ہے کہ امریکی خاتون اول انتقال اقتتدار سے قبل ہی منتخب ہونے والے صدر کی اہلیہ کو چائے کی دعوت دیتی ہیں جسے ٹی اینڈ ٹوور کہا جات ہے۔
یہ ضیافت انتخابات کا نتیجہ آنے کے ایک یا دو روز بعد منتخب کی جاتی ہے جس کے دوران موجودہ خاتون اول منتخب صدر کی اہلیہ یعنی ہونے والی خاتون اول کے ساتھ چائے پیتی ہیں جس کے بعد وہ اپنی مہمان کو وائٹ ہاؤس کا ایک تعارفی دورہ کراتی ہیں۔

نئی امریکی نائب صدر نے منفرد تاریخ رقم کردی

لیکن روایت کے برخلاف اس مرتبہ ایسا نہیں ہوا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ اور سابق ماڈل 50 سالہ میلانیا ٹرمپ نے جو بائیڈن کی جیت کے پہلے روز سے ہی منتخب صدر جو بائیڈن کی 69 سالہ اہلیہ اور پیشے کے اعتبار سے معلمہ جل بائیڈن کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے پروٹوکول کے برخلاف انہیں چائے اور تعارفی دورے کی دعوت نہیں دی۔

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی صدر بارک اوباما کی شہریت تک پر سوالات اٹھا دیے تھے لیکن اس کے اور دیگر معاملات کے باوجود مشل اوباما نے روایات کی پاسداری کرتے ہوئے میلانیا ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس مدعو کیا تھا۔ ٹی اینڈ ٹوور والی روایت ایک طویل عرصے سے امریکی خاتون اول کی غیر تحریری یا زبانی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے جس کی میلانیا ٹرمپ پاسداری کرنے سے قاصر رہیں۔

اس بات کی تصدیق اور اس پر تبصرہ جو بائیڈن اور جل بائیڈن کی صاحبزادی ایشلی بائیڈن نے بھی کی۔ انہوں نے میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران کیے گئے سوال کے جواب میں بتایا کہ ان کی والدہ کو موجودہ خاتون اول کی جانب سے ٹی اینڈ ٹوور تقریب کی کوئی دعوت موصول نہیں ہوئی۔

جوبائیڈن نے بطور امریکی صدر حلف اٹھالیا

ایشلی کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے وہ لوگ روایتی پروٹوکول کی پاسداری نہیں کر رہے تاہم کوئی بات نہیں، ہمیں اس پر کوئی مسئلہ نہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک روایت ہی نہیں بلکہ نئی آنے والی خاتون اول کی سہولت کا بھی باعث ہے کیوں کہ اس دوران وہ وائٹ ہاؤس کا دورہ کرلیتی ہیں، ایک نئی جگہ سے روشناسی ہوجاتی ہے، ملازمین سے سامنا بھی ہوجاتا ہے اور دیگر متعلقہ معاملات سے آشنائی بھی ہوجاتی ہے۔

یاد رہے کہ میلانیا کے ساتھ ساتھ ان کے شوہر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی امریکا میں 150 سال بعد ایک روایت توڑنے کے مرتکب ہو رہے ہیں جو یہ ہے کہ وہ نئے صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت نہیں کر رہے۔ ان سے قبل سن 1869 میں صدر انیڈریو جانسن نے بھی اپنے بعد آنے والے صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت سے گریز کیا تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube