Thursday, March 4, 2021  | 19 Rajab, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

فرانس کےسابق وزیراعظم کیخلاف کرپشن کیس سے پاکستان کاکیاتعلق ہے

SAMAA | - Posted: Jan 19, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jan 19, 2021 | Last Updated: 1 month ago

فرانس کے سابق وزیراعظم 91 سالہ بالادور کے خلاف ’کراچی افیئرز‘ کے نام سے مشہور کرپشن کیس کی سماعت شروع ہوچکی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کل براڈ شیٹ اور ایڈمرل منصورالحق کا بھی دوبارہ چرچا ہے۔ اس رپورٹ میں آپ کو بتاتے ہیں کہ ان تینوں کا آپس میں کیا تعلق ہے۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق سابق وزیر اعظم بالادور کے خلاف مقدمے کی کارروائی منگل کو پیرس میں کورٹ آف جسٹس میں شروع ہوگئی۔ بالادور کے ساتھ ان کے سابق وزیر دفاع فرانسوا لیوٹارڈ بھی کراچی افیئر‘ میں ملزم ہیں مگر وہ بیماری کے باعث آج عدالت میں پیش نہ ہوسکے۔

جرمن نشریاتی ادارہ ڈی ڈبلیو کے مطابق فرانس میں وزراء کے خلاف بدعنوانی کے کیسز کی سماعت اسی عدالت (کورٹ آف جسٹس) میں ہوتی ہے۔

الزامات کیا ہیں؟

ایڈوارڈ بالادور اور فرانسوا لیوٹارڈ پرالزام ہے کہ انہوں نے 1993 سے 1995 کے درمیان پاکستان کو آبدوز اور سعودی عرب کو جنگی جہاز فروخت کرنے کے معاملے میں ‘کارپوریٹ اثاثوں کا بے جا استعمال‘ کیا۔ فرانس کی تحقیقات کے مطابق اس ڈیل میں تیرہ ملین فرینک یعنی تقریباً 33 کروڑ امریکی ڈالر کی رشوت لی گئی تھی جس میں کچھ رقم بالادور نے اگلے انتخابی مہم میں استعمال کی۔

سابق وزیراعظم بالادور نے کرپشن کا الزام مسترد کرتے ہو اور کہا ہے کہ دس ملین فرینک کی آمدنی انتخابی ریلیوں کے دوران ٹی شرٹس اور دیگر اشیاء کی فروخت سے ہوئی تھی۔

لیکن یہ اسکینڈل سامنے آنے میں بھی 9 سال لگے اور یہ کس طرح سامنے آیا۔ اس کا آغاز پاکستان میں ہونے والے ایک خونریز واقعہ کے بعد ہوا اور جتنی تحقیقات ہوتی گئی، مزید انکشافات ہوتے گئے۔

کراچی افیئرز کیا ہے

کراچی میں 8 مئی 2002 کو ایک خودکش بمبار نے بارود سے بھری کار کو فرانسیسی انجنیئرز کی بس سے ٹکرا دی۔ جس کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہوئے جن میں 11 فرانسیسی انجنیئر شامل تھے جو فرانس کی نیوی کی کنسٹرکشن کمپنی ڈی سی این کے ملازم تھے۔

یہ انجنیئر آگسٹا آبدوز کی تیاری کے لیے یہاں موجود تھے۔ یہ آبدوزیں فرانس نے پاکستان کو فروخت کی تھیں۔ اس واقعے کی تحقیقات کے دوران پاکستان اور فرانس کی اہم شخصیات میں کمیشن کا اسکینڈل سامنے آیا۔ جس کو ’کراچی افیئر‘ کا نام دیا گیا۔

برطانوی نشریاتی ادارہ (بی بی سی)  کے نمائندہ ریاض سہیل نے گزشتہ برس اس موضوع پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی جس کے مطابق پاکستان نیوی کی سابق ڈی جی انٹیلی جنس کموڈور شاہد اشرف نے ایکسپریس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ 1992 میں نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں نیوی نے 52 کروڑ ڈالرز کی مالیت کی آبدوزوں کی خریداری کی منظوری دی۔

رپورٹ کے مطابق نواز شریف اور نیوی کے حکام نے ایڈمرل نقوی، ایڈمرل جاوید افتخار اور ایڈمرل مجتبیٰ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جس نے چین، فرانس، سوئیڈن اور برطانیہ کا دورہ کیا اور سفارش کی کہ آبدوز سوئیڈن سے خریدی جائیں مگر اس کے بعد ایڈمرل سعید خان نے دوبارہ ایک ٹیم تشکیل دی جس نے ان چاروں ملکوں کا دورہ کیا اور واپسی پر برطانیہ یا پھر فرانس سے آگسٹا 90 آبدوز خریدنے کا مشورہ دیا۔

فرانس کے ساتھ 21 اگست 1994 کو آگسٹا کی خریداری کا معاہدہ ہوا تو اس وقت بینظیر بھٹو پاکستان کی وزیراعظم تھیں۔

آگسٹا آبدوز پاکستان بحریہ کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان نے 1994 میں تین آگسٹا آبدوزوں کا آرڈر دیا۔ ان میں سے ایک فرانس میں تیاری کی گئی جبکہ باقی دو کی تیاری پاکستان میں عمل میں لائی گئی۔ فرانسیسی نیول کمپنی ڈی سی این نے پاکستان کو اس کی کمرشل فروخت کی بھی اجازی دی تھی۔ یہ آبدوز 350 میٹر تک سمندر کی گہرائی میں جا سکتی ہے۔

معاہدے میں کمیشن

اس ڈیل کے تحت فرانسیسی کمپنی سیفوما کو اس ڈیل میں 33 کروڑ 80 لاکھ فرینک ملے جبکہ دو لبنانی شہریوں نے آف شور کمپنی کے ذریعے چار فیصد کمیشن لیا جو 21 کروڑ 60 لاکھ فرینک بنتا ہے۔ اس ڈیل میں پاکستان کے معاون یا ثالث کو بھی کمیشن ملا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق آگسٹا ڈیل کی تحقیقات پر مبنی کتاب ’دی کراچی افیئر‘ میں پاکستان نیوی کے سربراہ ایڈمرل منصورالحق اور کاروباری شخصیت عامر لودھی کا ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ بعد میں دو لبنانی کاروباری شخصیات شامل کی گئیں۔

نیب کے اس وقت پراسیکیورٹر جنرل عرفان قادر کتاب کے مصنف کو بتایا تھا کہ کمیشن دو افراد میں تقیسم ہوئی لیکن منصور الحق نے لودھی پر الزام عائد کردیا۔

فرانس کی سیاست کا عمل دخل

آگسٹا آبدوز کی ڈیل کے وقت فرانس کے وزیر اعظم بالادور تھے اور نکولس سارکوزی جو بعد میں صدر بنے ان کے وزیر خزانہ تھے۔ انھوں نے معاہدہ کیا تھا کہ ژاک شراک صدارتی انتخاب نہیں لڑیں گے لیکن اس کے برعکس انہوں نے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا اور پھر صدراتی الیکشن بھی جیت گئے۔ انھوں نے اس ڈیل میں کمیشن کی تحقیقات کا حکم جاری کیا۔

تحقیقات میں یہ بھی الزام سامنے آیا کہ آگسٹا ڈیل میں ایک کروڑ فرینک بالادور کی الیکشن مہم کے لیے ادا کیے گئے، ان کے الیکشن انچارج نکلوس سارکوزی تھے۔

ژاک شراک نے وزیر دفاع چارلس ملن کو تحقیقات کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا جس نے تصدیق کی کہ ایک بڑی رقم رشوت کی صورت میں آف شور کمپنیوں کے ذریعے فرانس میں لائی گئی جبکہ رقم کی منزل پاکستان تھی لیکن اس کو فرانس لایا گیا۔ اسی دوران ژاک شراک نے تمام ادائگیاں روک دیں۔

کراچی دھماکہ کمیشن کی عدم فراہمی کا ردعمل

فرانس اور پاکستان نے کراچی میں فرانسیسی انجنیئروں پر حملے کا الزام القاعدہ پر عائد کیا مگر بی بی سی کے مطابق ’دی کانٹریکٹ اینڈ افیئر سارکوزی‘ میں لکھا گیا ہے کہ اس دھماکے کے پیچے القاعدہ نہیں بلکہ آئی ایس آئی کے حمایت یافتہ جہادی گروپ کا ہاتھ تھا۔ کتاب میں ڈی سی این کی اندرونی خفیہ رپورٹ کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کمیشن روکنے پر پاکستانی ادارے آئی ایس آئی کا یہ ردعمل تھا۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تین افراد کو واقعے کے ایک سال کے بعد سزائے موت سنائی تھی۔ ملزمان کا تعلق حرکت جہاد اسلامی نامی گروپ سے بتایا گیا تھا تاہم 2009 میں ثبوتوں کی عدم فراہمی پر اعلیٰ عدالت نے انھیں رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔

ایڈمرل منصور الحق کا کردار

پاکستان نیوی کی سابق ڈی جی انٹیلی جنس کموڈور شاہد اشرف کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم ہوا تھا کہ نیاز نامی شخص کیپٹن علوی کو ایک لاکھ ڈالر سے زائد رقم رشوت کے طور پر ادا کر رہا ہے۔ وہ وائس چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل اے یو خان کے گھر گئے اور انہیں تمام ضروری معلومات فراہم کیں لیکن انہوں نے انہیں کوئی بھی اقدام اٹھانے سے روک دیا اور کہا کہ نیول چیف ایڈمرل منصور الحق کی رضامندی سے ایکشن لیا جائے گا جو امریکا اور فرانس کے دورے پر تھے۔

پاکستان نیوی کی سابق ڈی جی انٹیلی جنس کموڈور شاہد اشرف کے مطابق ’میں نے ایڈمرل منصورالحق سے فرانس میں رابطہ کیا تو نیول چیف نے مشورہ دیا کہ میری واپسی تک انتظار کریں بعد میں جب وہ لوٹ کر آئے تو میں نے دوبارہ پوری کہانی سنائی جس میں سینیئر افسران بھی شریک تھے۔ ریئر ایڈمرل فصیح بخاری نے کہا کہ ان لوگوں کو گرفت میں لانا چاہیے۔ تب میں نے جواباً کہا کہ میرا کام معلومات فراہم کرنا تھا۔‘

ایڈمرل منصور الحق کی گرفتاری اور بارگین

میاں نواز شریف کی حکومت میں ایڈمرل منصور الحق کو فارغ کر دیا گیا اور وہ امریکا منتقل ہو گئے۔ جب پرویز مشرف نے نواز شریف کا تختہ الٹ کر مارشل لا نافذ کیا تو 2000 میں براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدہ کیا اور 200 پاکستانی شہریوں کی فہرست دی جو مبینہ طور پر پاکستان سے پیسہ چوری کرکے دوسرے ممالک میں رکھا گیا تھا۔

براڈشیٹ کی تحقیقات کے نتیجے میں امریکی اداروں نے بدعنوانی کے الزام میں ایڈمرل منصور الحق کو آسٹن سے گرفتار کرلیا۔ ایڈمرل منصورالحق نے امریکی عدالت کو درخواست دی کہ انہیں پاکستان کے حوالے کیا جائے اور عدالت نے یہ درخواست مان لی۔ ایڈمرل منصور الحق کچھ عرصہ نیب کی تحویل میں رہے اور پھر پلی بارگین کرکے کرپشن کی مجموعی رقم کا 25 فیصد رقم ادا کرکے بری ہو گئے۔

نیب کے دستاویزات کے مطابق بطور نیول چیف انہوں نے مختلف دفاعی سودوں میں رشوت اور کمیشن حاصل کیا اور 29 اپریل 1997 میں انہیں قبل از وقت ریٹائر کیا گیا جس کے بعد وہ امریکی شہر آسٹن منتقل ہو گئے۔

پلی بارگین کے تحت انہوں نے 75 لاکھ ڈالر قومی خزانے میں جمع کرائے۔ نیب ریکارڈ کے مطابق پہلی درخواست میں انہوں نے 33 لاکھ 60 ہزار ڈالرز کی پیکش کی تھی لیکن اس کو مسترد کر دیا گیا جس کے بعد انہوں نے 75 لاکھ ڈالرز کی درخواست کی جس کو قبول کر لیا گیا۔

کیا صرف ایڈمرل منصورالحق اکیلے ملوث تھے

ایڈمرل منصورالحق 2018 میں امریکا میں انتقال کر گئے۔ نیول انٹیلی جنس کے سابق سربراہ ریئر ایڈمرل تنویر احمد کا کہنا ہے کہ اس میں اور بھی لوگ ملوث ہیں جن کو سامنے نہیں لایا گیا۔ ڈان ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ 1992 میں شروع ہوا اور مارچ 1994 میں فائنل ہوا۔ اس وقت نیول چیف سعید محمد خان تھے۔

انھوں ںے کہا کہ ’کامن سینس قبول نہیں کرتی کہ مارچ میں اگر معاہدہ ہوا تو ان کو تو نہیں پتہ تھا کے ان کے بعد نیول چیف کس نے آنا ہے اور لگتا تو ایسا ہے کہ وہ یہ کہہ کر اپنے آپ کو چھپاتے رہے کہ یہ میں نے معاہدہ سائن کردیا ہے جو میرے بعد نیول چیف آئے گا کمیشن اور کک بیکس اس کو دی جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ لیکن ایسے نہیں ہوتا عام طور پر جو معاہدے پر دستخط کرتے ہیں اس میں حکومتوں کے بھی لوگ ہوتے ہیں اس میں ہیڈکوارٹرز کے بھی ہوتے ہیں۔ جس جس نے اس معاہدے میں حصہ لیا ہوتا ہے وہ تو اپنا حصہ لیتا ہے۔ اس میں یہ کہنا کہ صرف منصور الحق نے کیا، یہ زیادتی ہو گی۔ منصور نے تو تسلیم کیا ہے لیکن مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ نیب اور دیگر اداروں نے دوسرے لوگوں کوایکسپوز کیوں نہیں کیا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube