Monday, March 8, 2021  | 23 Rajab, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

امریکا نے چین کیخلاف اپنا منصوبہ ظاہر کردیا

SAMAA | - Posted: Jan 14, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 14, 2021 | Last Updated: 2 months ago

امریکا نے ایشیا میں چین کا عروج روکنے کے منصوبے پر سے پردہ اٹھا دیا۔

الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق تشہیر کردہ نئے دستاویزات میں امریکا کا کہنا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ چین کی معاشی سرگرمیاں روکے، بھارت کے عروج کے عمل کو تیز کرے اور تائیوان کو جبر سے نجات حاصل کرنے میں مدد دی جائے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے چین پر اپنی برتری قائم رکھنے کو یقینی بنائے رکھنے کے لیے اپنی حکمت عملی آشکار کی ہے جس کے مطابق دو عوامل پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے جن میں بھارت کے چین کے مقابلے میں عروج کو یقینی بنانا اور تائیوان کی کسی چینی حملے کی صورت میں تحفظ فراہم کرنا شامل ہیں۔
امریکا کی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن نے منگل کے روز مذکورہ دستاویزات کی اشاعت کا اعلان کیا جس کا عنوان یونائیٹڈ اسٹیٹس اسٹریٹیجک فریم ورک فار دی انڈو پیسیفک ہے۔

رابرٹ او برائن کا کہنا تھا کہ اس کی منظوری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری 2018 میں دی تھی جس میں گزشتہ 3 برسوں کے امریکی اقدامات کے لیے حکمت عملی وضح کی گئی تھی اور اسے اب پبلک کرنے کا مقصد انڈو پیسیفک خطے میں امن و آزادی برقرار رکھنے کے حوالے سے امریکی عزم ظاہر کرنا ہے۔
قومی سلامتی مشیر کا کہنا تھا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی کے وژن اور ہدف کے مطابق چین ایشیائی ممالک کی آزادی اور خودمختاری اپنے تابع کرنے کے لیے دباؤ بڑھاتا جا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی نقطہ نظر مختلف ہے وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ آزاد انڈو پیسیفک کے خواشمند اس کے اتحادی اپنی خودمختاری برقرار رکھ سکیں۔

امریکی دستاویز نے خطے کے لیے مقاصد وضح کیے ہیں جن کی رو سے شمالی کوریا خطے کے لیے خطرے کا باعث نہیں بن سکے گا، بھارت جنوب ایشیائی ممالک میں غالب حیثیت رکھے گا اور امریکا خودمختاری کمزور کرنے والی چینی سرگرمیوں کی اپنے دنیا بھر کے اتحادیوں کے ساتھ ملک کر مزاحمت کرے گا۔ دستاویز کے مطابق چین تائیوان کو ملانے کی خاطر انتہائی اقدامات کرے گا۔ دستاویز میں خبردار کیا گیا ہے کہ چین کی آرٹیفیشل انٹیلجنس جیسی ٹیکنالوجیز آزاد معاشروں کے لیے ایک شدید خطرہ ہے۔
یہ دستاویز نومنتخت امریکی صدر جو بائیڈن کے اقتددار سنبھالنے سے محض ایک ہفتہ پہلے ریلیز کیا گیا ہے لہٰذا اس حوالے سے اس کے مقصد پر سوالات کھڑے کیے جاسکتے ہیں لیکن ٹرمپ حکومت کے چین کو روکنے کے اقدامات کو ملک کی دونوں پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے۔ امریکا کے ہونے والے صدر جو بائیڈن کے ساتھی حکام بھی چین کے خلاف اتحادیوں اور پارٹنرز کے ساتھ ملک کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جو کہ امریکی حکمت عملی کا ایک خاص حصہ ہے جس میں بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانا خصوصی طور پر شامل ہے۔

آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے قومی سلامتی کالج کے سربراہ روری میک ڈیلف کا کہنا ہے کہ اس دستاویز سے ایشیا کے حوالے سے امریکی پالیسی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور چین کو نکیل ڈالنا چاہتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکا اپنے اس طویل مدتی مقابلے میں سنجیدہ ہے تو اسے اپنے اندرونی معاملات ٹھیک رکھنے اور خطے میں اپنی طاقت بڑھانے کے لیے بیک وقت اقدامات کرنے ہوں گے یعنی کسی ایک کام کو پس پشت ڈال کر دوسرا کام کرنا سود مند ثابت نہیں ہوگا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube