Thursday, March 4, 2021  | 19 Rajab, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

انڈونیشیا طیارہ حادثہ: 2 بلیک باکسز کی نشاندہی کرلی گئی

SAMAA | - Posted: Jan 10, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 10, 2021 | Last Updated: 2 months ago

انڈونیشیا کے حکام کا کہنا ہے کہ سمندر میں تباہ شدہ طیارے کے بلیک باکس کی نشاندہی کرلی گئی ہے، جسے نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن کیا جائے گا۔ قبل ازیں سمندر سے مسافر طیارے کا کچھ ملبہ اور انسانی اعضا برآمد کیے گئے، جب کہ سمندر کی تہہ سے طیارے کے سنگل بھی موصول ہوئے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق انڈونیشیا کے تباہ شدہ طیارے کے 2 بلیک باکسز کی نشاندہی کرلی گئی ہے، جس میں فلائٹ ڈیٹا باکس اور کاک پٹ وائس ریکارڈر شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ دونوں باکسز کی تلاش اور برآمد ہونے پر اس سے حاصل شدہ ڈیٹا سے پتا چلایا جائے گا کہ آیا طیارے کو حادثہ کیسے پیش آیا اور حادثے سے قبل کاک پٹ میں کیا باتیں ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق امدادی کارکنوں کو سمندر میں مسافر بردار طیارے بوئنگ 737 کا ملبہ اور انسانی اعضا ملے ہیں جنہیں نکال لیا گیا ہے۔ وری وجائیا ایئر کے طیارے میں عملے سمیت 62 افراد سوار تھے جن میں 10 بچے بھی شامل تھے۔ طیارہ جکارتا سے پونتیانک جا رہا تھا لیکن ٹیک آف کے 4 منٹ بعد ریڈار سے غائب ہوگیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک طیارے کے حادثے کی کوئی وجہ سامنے نہیں آسکی، تمام تر توجہ ابھی آپریشن پر ہے۔ جکارتا کے پولیس ترجمان یسری یونس نے مقامی ٹیلی ویژن میٹرو ٹی وی کو بتایا کہ ’آج صبح تک ہمیں دو (باڈی) بیگز ملے ہیں، ایک مسافر کے سامان کے ساتھ اور ایک میں انسانی اعضا تھے۔ مسافروں کا سامان اور اعضا بڑے پیمانے پر کیے گئے سرچ آپریشن کے بعد ملے ہیں۔

غمزدہ رشتے داروں نے طیارے سے متعلق خبروں کے لیے ایئرپورٹ پر ہی انتظار کیا۔ ایک شہری یمن زائی نے روتے ہوئے کہا کہ اس طیارے میں ان کے خاندان کے 4 افراد سوار تھے۔ جس میں میری اہلیہ اور 3 بچے شامل تھے۔‘

شہری کا مزید کہنا تھا کہ ٹیک آف سے قبل اہلیہ نے میرے چھوٹے بچے کی تصویر مجھے بھیجی، مجھ یہ سب برداشت نہیں ہو رہا، میرا دل پھٹا جا رہا ہے۔ انڈونیشین حکام کی جانب سے آپریشن کا عمل آج 10 جنوری اتوار کو بھی جاری ہے۔ انڈونیشیا کے ٹرانسپورٹیشن کے وزیر کاریا سمادی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ طیارے کے کریش ہونے کے ممکنہ مقام کی نشاندہی کے بعد حکام نے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا۔

تھاؤزنڈ آئی لینڈ کے مچھیروں کے مطابق انہوں نے دوپہر 2 بج کر 36 منٹ پر ایک دھماکے کی آواز سنی تھی۔ مچھیرے سولوہن کا کہنا تھا کہ تیز بارش ہو رہی تھی اور موسم بھی خراب تھا۔ اس لیے اردگرد دیکھنا مشکل تھا۔ ہم نے دھماکے کی آواز سنی اور سمندر کی ایک بڑی لہر اس دوران آتے دیکھی۔ ہمیں بہت دکھ ہے، اس دوران ہم نے طیارے کا ملبہ اور ایندھن اپنی کشتی کے پاس دیکھا۔‘

رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا کے جکارتا ایئرپورٹ سے ٹیک آف کے چند منٹ بعد ہی سمندر میں گر کر تباہ ہونے والا سری وجائیا ایئر لائن کا طیارہ 26 سال پرانا تھا۔ سری وجائیا ایئر لائن کی پونتیانک کے لیے فلائٹ ایس ایل 182 کے طور پر ائیر کرافٹ بوئنگ 737 نے اڑان بھری تھی۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق اس طیارے نے مئی 1994 میں فضائی سفر کا آغاز کیا تھا۔ طیارے کا سیریل نمبر 27323 تھا۔ لاپتا ہونے کے وقت طیارہ 10900 فٹ کی بلندی پر تھا۔ طیارے کی گراؤنڈ اسپیڈ 287 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق پرواز نے دوپہر 1 بج کر 40 منٹ پر ٹیک آف کرنا تھا مگر 56 منٹ کی تاخیر سے یہ پرواز 2 بج کر 36 منٹ پر روانہ ہوئی جس میں عملے سمیت 60 افراد سوار تھے۔ انڈونیشیا کے دارالحکومت سے اڑان کے بعد پونتیانک ایئر پورٹ تک اس پرواز کا تمام فضائی سفر سمندر کے اوپر تھا۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق طیارے کا رابطہ مغربی کالیمنتن صوبے میں منقطع ہوا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube