Saturday, September 25, 2021  | 17 Safar, 1443

امریکاکی پابندیاں ہماری خودمختاری پرحملہ ہیں، اردوان

SAMAA | - Posted: Dec 17, 2020 | Last Updated: 9 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 17, 2020 | Last Updated: 9 months ago

فوٹو: ٹی آر ٹی

ترک صدر طیب اردوان نے روس سے دفاعی معاہدے کے بعد پابندیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی پابندیاں ہماری خودمختاری پر حملہ ہیں لیکن ترکی ایسے فیصلوں سے نہیں رکے گا۔

انقرہ میں ہائی وے کے افتتاح کے موقعے پرامریکی پابندیوں کا اعلان ہونے کے بعد پہلی مرتبہ ترک صدر نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ روس سے ایس 400 میزائلز کی خریداری محض بہانا ہے۔ دفاعی شعبے میں ترقی روکنے کے لیے یہ اقدامات اٹھائے ہیں۔

امریکا دفاعی ساز و سامان کے لیے ترکی کا امریکا پر انحصار کم نہیں ہونے دینا چاہتے تبھی روس سے دفاعی سودے پر بلاجواز پابندیاں عائد کی گئیں۔

طیب اردوان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ترکی پر پابندیوں کے لیے2017 میں منظور کردہ (کاؤنٹر امریکن ایڈورسٹیز تھرو سینکشنز) کے اپنے ایک ایسے قانون کا استعمال کیا ہے جو اس سے پہلے کبھی کسی نیٹو اتحادی کے خلاف استعمال نہیں کیا۔ ان حالات میں نیٹو اتحادی ہونے کے کیا معنی رہ جاتے ہیں۔

صدر اردوان نے کہا کہ امریکی پابندیوں کا مقصد ترکی کی دفاعی ترکی روک کر اسے اپنا دست نگر بنانا ہے، امریکا کا یہ فیصلہ ترکی کی خود مختاری پر حملہ ہے۔ ترکی اب اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ ایسی پابندیاں اس کا راستہ نہیں روک سکتیں۔ اب ہم اپنی دفاعی صنعت کی ترقی کے لیے دگنا کام کریں گے۔

واضح رہے کہ امریکا نے پیر کو ترکی کی دفاعی سودے کرنے والے ادارے پر اقتصادی اور سفری پابندیاں عائد کردی تھیں جس کے بعد ترکی کی امریکی ہتھیاروں تک اس کی رسائی ختم کردی گئی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube