Thursday, January 21, 2021  | 6 Jamadilakhir, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

صدیوں پرانے گاؤں کا نام بالآخر بدلنا ہی پڑا

SAMAA | - Posted: Dec 3, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 3, 2020 | Last Updated: 2 months ago

زبانیں بھی بڑی دلچسپ ہوا کرتی ہیں جس میں الفاظ و معانی وقت کے ساتھ تبدیل بھی ہوجاتے ہیں اور کبھی کبھار یہ اس زبان بولنے والوں کے لیے تھوڑی سبکی کا بھی باعث بنتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ آسٹریا کے دارالخلافے ویانا سے 350 کلومیٹر کی دوری پر واقع ایک گاؤں کے ساتھ بھی ہوا جس کے بعد متعلقہ میونسپلٹی اب اس بات پر مجبور ہوچکی ہے کہ وہ اس کا نام بدل دے۔

دی گارجین کی ایک رپورٹ کے مطابق آسٹریا کے اس گاؤں کا نام جو طویل عرصے سے مزاق کا نشانہ بن رہا تھا اور خصوصاً سوشل میڈیا پر اس کے خوب لتے لیے جاتے تھے نئے سال کے پہلے دن تبدیل کردیا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس گاؤں کا نام 11 ویں صدی عیسوی میں رکھا گیا تھا تاہم اب یہ فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ یہ نام تبدیل کردیا جائے گا۔

میونسپل کونسل کی قرارداد کے مطابق اس گاؤں میں 100 افراد رہتے ہیں اور یہ ویانا کے مغرب میں 215 میل کی دوری پر واقع ہے اور اب یکم جنوری 2021 سے اس کا نام ’فگنگ‘ رکھا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ اس گاؤں کے نئے نام کے مقابلے موجودہ نام میں حرف ’گ‘ کی جگہ ’ک‘ ہے جو اب تبدیل ہوجائے گا۔ اگر انگریزی حروف تہجی کے حوالے سے دیکھا جائے تو گاؤں کے نام کے تقریباً درمیان میں حرف ’سی‘ اور ’کے‘ کی جگہ اب ڈبل ‘جی’ کا استعمال کیا جائے گا۔

انگریزی بولنے والے سیاح کثیر تعداد میں اس گاؤں کے داخلی راستے پر رکتے اور اس کے سائن پوسٹ کے ساتھ کھڑے ہوکر اپنی تصاویر بنواتے ہیں۔ ان تصویروں میں کبھی کبھار فحش قسم کے پوز بھی دیے جاتے ہیں جو بعد ازاں سوشل میڈیا کی زینت بھی بن جاتے ہیں۔

PHOTO : Twitter

ایک مرتبہ تو کوئی منچلا گاؤں کے نام کا سائن بورڈ ہی اکھاڑ کر لے گیا جس کے بعد حکام کو اس مصیبت سے بچنے کے لیے دوبارہ بورڈ لگاتے ہوئے سمینٹ کا استعمال کرنا پڑا۔ ان تمام باتوں کے پیش نظر بالآخر گاؤں والوں نے سوچا کہ بس بہت ہوچکا اب نام بدلنا ہی پڑے گا۔

ٹارسڈوف میونسپلٹی کے میئر اینڈریا ہازنر نے بھی اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ گاؤں کا نام تبدیل کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں وہ اس موضوع پر سے زیادہ کوئی اور تبصرہ نہیں کرنا چاہیتں۔

آسٹریا کے اخبارات میں بھی سیاحوں کی جانب سے گاؤں کے نام کو مزاق اور تضحیک کا نشانہ بنائے جانے پر گاؤں والوں کی ناراضگی کا ذکر کیا گیا تھا۔

تاہم ہر کوئی نام کی اس تبدیلی سے خوش نہیں۔ سوشل میڈیا پر اس پر تنقید بھی کی گئی۔ کسی نے سوال کیا کہ کیا اب لوگوں کی حس مزاح ختم ہوچکی ہے تو کسی نے کہا کہ اس گاؤں کی مفت میں اتنی تشہیر ہو رہی ہے لہٰذا وہاں کے لوگوں کو خوش ہونا چاہئے کہ ان کے گاؤں کا نام ایسا ہے۔

گاؤں سن 1070 میں آباد ہوا تھا تاہم مقامی روایتوں کے مطابق چھٹی صدی ہجری میں فوکو نامی ایک رئیس نے اس آبادی کی بنیاد رکھی تھی۔ تاہم سن 1825 کے ایک نقشے میں اس علاقے کے نام کے ہجے ’فوکنگ‘ استعمال ہوئے تھے جس کے درمیان میں انگریزی حرف ‘سی’ کا اضافہ ہوگیا جس کی وجہ نامعلوم ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube