Saturday, November 28, 2020  | 11 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

پہلی صدی عیسوی کے رئیس اور غلام کے ڈھانچے برآمد

SAMAA | - Posted: Nov 21, 2020 | Last Updated: 7 days ago
SAMAA |
Posted: Nov 21, 2020 | Last Updated: 7 days ago

آثار قدیمہ کے ماہرین نے پہلی صدی عیسوی کے تباہ شدہ پومپے شہر کی کھدائی کے دوران دو انسانوں کی باقیات برآمد کرلی ہیں۔ دو ہزار سال پرانی ان باقیات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک کوئی رئیس شخص اور دوسرا اس کا غلام ہوسکتا ہے۔

پومپے موجودہ اٹلی کا ایک علاقہ ہے۔ پہلی صدی عیسوی کے دوران سنہ 79 میں کوہ ویسوویئس میں آتش فشاں پھٹنے سے قدیم رومن پومپے شہر اپنے مکینوں سمیت راکھ میں دفن ہو گیا تھا۔ اس اچانک افتاد سے شہر اور اس کے مکین یکدم فنا ہوگئے۔ اس تاریخی واقعے کے تناظر میں ماہرین اس شہر کو آثار قدیمہ کا ذخیرہ سمجھتے ہیں۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس قدیمی شہر کے نواح میں ایک بڑی حویلی کی کھدائی کی جا رہی تھی۔ جس میں یہ دو باقیات ملی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ دو افراد شاید لاوا پھٹنے کے بعد محفوظ جگہ ڈھونڈ رہے تھے کہ راکھ میں بہہ گئے۔ ان میں سے ایک غالباً کوئی امیر شخص تھا اور دوسرا اس کا غلام تھا۔

پومپے آثار قدیمہ پارک کے حکام کا کہنا ہے کہ اس امیر آدمی کی عمر 30 سے 40 برس کے درمیان ہے۔ اس کی گردے کے نیچے سے گرم اونی چادر کے باقیات بھی ملے ہیں جبکہ دوسرا شخص 18 سے 23 سال کی عمر کا ہے۔ ماہرین اثار قدیمہ کے مطابق اس شخص کی کچلی ہوئی ریڑھ کی ہڈی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک غلام تھا جو مشقت کرتا تھا۔

ماہرین نے وجہ موت کا تعین کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں تھرمل شاک یعنی انتہائی تیز حرارت کے باعث ہلاک ہوئے ہیں جس کی نشاندہی ان کے بھنچے ہوئے ہاتھوں اور پیروں سے ہو سکتی ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس آثار قدیمہ کی جگہ پر مزید کھدائی کا کام جاری ہے۔ مزید قدیم اشیا مل سکتی ہیں مگر کرونا وائرس کے سبب احتیاطی تدابیر کے طور پر یہ علاقہ آج کل سیاحوں کے لیے بند ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube