Friday, January 22, 2021  | 7 Jamadilakhir, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

لندن: صحافی نے سماء کے بیوروچیف سے معافی مانگ لی

SAMAA | - Posted: Nov 3, 2020 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 3, 2020 | Last Updated: 3 months ago

کوثر کاظمی کو بھارتی جاسوس قرار دیا تھا

لندن میں تحریک انصاف کے حامی ایک مبینہ صحافی نے سماء ٹی وی لندن کے بیورو چیف کوثر کاظمی اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف جھوٹی اور من گھڑت خبر پھیلانے پر معافی مانگ لی ہے۔

لندن میں رہائش پذیر صہیب ثاقب نامی شخص نے اپنے ویریفائڈ اکاؤنٹ سے میاں نواز شریف کی ایک تصویر ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ نواز شریف کے ساتھ یہ دوسرا شخص بھارت کا ملٹری اتاشی ہے۔ ٹوئٹ کرنے والے شخص کا نام صہیب ثاقب ہے۔ ان کے ویری فائیڈ ٹوئٹر اکاؤنٹ پر 42 ہزار فالورز ہیں۔

اس ٹوئٹ کے فوری بعد جب سماء ڈیجیٹل نے ان کے پروفائل کا جائزہ لیا تو معلوم نہ ہوسکا کہ ان کا پیشہ کیا ہے۔ ٹوئٹ کردہ مواد سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا تھا کہ وہ تحریک انصاف کے حامی ہیں۔ ان کی ٹائم لائن پر مسلم لیگ نواز کی مخالفت اور تحریک انصاف کے حق میں بہت سارا مواد موجود تھا جبکہ تحریک انصاف لندن کے رہنماؤں کے ساتھ ان کی تصاویر بھی تھیں۔

نواز شریف کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اس شخص نے دعویٰ کیا تھا کہ ’میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ نواز شریف نے بھارت کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوال کے بھیجے گئے تین رکنی وفد سے ملاقات کی ہے۔ جن میں بھارت کے ملٹری اتاشی بھی شامل ہیں۔ یہ ملاقات پارک لین پر واقع فور سیزن ہوٹل میں ہوئی اور میرے پاس اس کے تمام شواہد موجود ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیں:جب سماء کے نمائندے کو ’بھارتی جاسوس‘ قرار دیاگیا

پاکستان کے سوشل میڈیا سمیت بعض ٹی وی چینلز نے بھی اس کو مصدقہ خبر بناکر چلائی اور میاں نواز شریف سمیت مسلم لیگ نواز کے خلاف ایک مہم شروع ہوگئی۔

حقیقت مگر یہ تھی کہ اس تصویر میں میاں نواز شریف کے ساتھ بھارت کے ملٹری اتاشی نہیں بلکہ سماء ٹی وی لندن کے بیورو چیف سید کوثر کاظمی تھے۔ کوثر کاظمی نے 3 اکتوبر کو ہائیڈ پارک میں میاں نواز شریف کے ہمراہ چہل قدمی کے بعد اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے یہ تصویر شیئر کی تھی۔

کوثر کاظمی نے اسی وقت اس من گھڑت خبر کی تردید کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’میرا نام کوثر کاظمی ہے۔ میں بھارت کا ملٹری اتاشی نہیں بلکہ ایک صحافی ہوں اور مجھے کسی سے بھی پاکستانی ہونے کا سرٹیفکیٹ نہیں چاہیے۔ میں آپ ( صہیب ثاقب) کے خلاف لندن کی عدالت میں قانونی کارروائی کروں گا۔‘

قانونی کارروائی کا سننے کے بعد صہیب ثاقب نے اپنا ٹوئٹ ڈیلیٹ کردیا اور اس کے ساتھ ہی تحریک انصاف کی حمایت اور مسلم لیگ نواز کے خلاف پوسٹ کیا گیا تمام مواد بھی ہذف کردیا۔ کوثر کاظمی نے اس وقت سماء ڈیجیٹل کو بتایا تھا کہ ’ہمارے پاس صہیب ثاقب کا ایڈریس موجود ہے۔ ہم وکلاء سے مشورہ کر رہے ہیں۔ جلد ان کو نوٹس بھیجا جائے گا۔‘

یکم نومبر کو صہیب ثاقب نے کوثر کاظمی سے ملاقات کرکے جھوٹی خبر پھیلانے پر مانگ لی۔ صہیب ثاقب نے اس موقع پر معافی نامہ پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے ایک بڑے میڈیا پاؤس سے وابستہ سنیئر صحافی کوثر کاظمی اور پاکستان کے تین مرتبہ منتخب وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف میری خبر مکمل طور پر غلط اور جعلی تھی جس پر  میں تمام لوگوں سے معذرت کرتا ہوں۔‘

کوثر کاظمی نے صہیب ثاقب کی معذرت قبول کرتے ہوئے کہا کہ ’انہوں نے اپنی غلطی تسلیم کرکے معافی مانگ لی، یہ کافی ہے۔ میں ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کرنا نہیں چاہتا۔‘

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube