Wednesday, December 2, 2020  | 15 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

امریکاکوانتہائی مطلوب القاعدہ رہنما المصری آپریشن میں ہلاک

SAMAA | - Posted: Oct 27, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 27, 2020 | Last Updated: 1 month ago

بشکریہ ایف بی آئی ویب سائٹ

امریکا کو انتہائی مطلوب القاعدہ کے رہنما المصری کو فوجی آپریشن میں ہلاک کردیا گیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکا کو انتہائی مطلوب القاعدہ رہنما ابو محسن المصری کو افغانستان میں ہلاک کردیا گیا ہے۔

افغان فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکہ کے وفاقی تفتیشی ادارے ‘ایف بی آئی’ کی انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل دہشت گرد تنظیم ‘القاعدہ’ کے سینیر لیڈر ابو محسن المصری کو ہلاک کردیا۔

افغانستان کے سیکیورٹی ادارے ‘افغان نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) نے ہفتے 24 اکتوبر کو رات گئے کی گئی ٹوئٹ میں بتایا کہ المصری کو افغان صوبہ غزنی میں ہونے والے خصوصی آپریشن کے دوران ہلاک کیا گیا۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق امریکی ادارہ برائے نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم سینٹر کے سربراہ کرس ملر نے بھی المصری کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ المصری کی ہلاکت دہشت گرد تنظیم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ جنہیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ہاتھوں مسلسل نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یال رہے کہ امریکہ میں المصری پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کی فنڈنگ اور وسائل مہیا کرنے کے علاوہ امریکی شہریوں کو ہلاک کرنے کی سازش میں بھی ملوث تھے۔ ‘این ڈی ایس’ کے مطابق المصری کو القاعدہ کا نائب کمانڈر سمجھا جاتا تھا۔

المصری کی ہلاکت پر تاحال ایف بی آئی کی طرف سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔ المصری، مصری شہری اور حسام عبد الرؤف کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔ امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا گزشتہ ماہ کہنا تھا کہ افغانستان میں القاعدہ کے لیے کام کرنے والے صرف 200 کے لگ بھگ فعال کارکن رہ گئے ہیں۔

رواں سال نائن الیون کے واقع کو 19 سال مکمل ہو چکے ہیں جس کے بعد امریکہ نے افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا۔ یاد رہے کہ رواں سال 29 فروری کو امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق امریکہ مئی 2021 تک افغانستان سے اپنی باقی ماندہ فورسز کا انخلا کر لے گا۔

دوسری جانب امریکا کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد کا گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہنا تھا کہ امریکا اور طالبان نے طے پانے والے معاہدے کی جزیات پر سختی سے قائم رہتے ہوئے اقدامات کا از سر نو تعین کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube