Saturday, November 28, 2020  | 11 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

عمرہ زائرین کیلئے کڑی شرائط، سخت ضوابط متعارف

SAMAA | - Posted: Oct 26, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 26, 2020 | Last Updated: 1 month ago

سعودی عرب کے شہریوں کے علاوہ دیگر ممالک سے عمرہ زائرین کی آمد کا سلسلہ اگلے اتوار یعنی یکم نومبر سے شروع ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں سعودی وزارت حج وعمرہ نے زائرین کے لیے ضوابط کا اعلان کیا ہے۔

سعودی عرب کے نشریاتی ادارہ العربیہ کے مطابق بیرون ملک سے عمرہ کے لیے آنے والوں کی عمر کی حد 18 سے 50 برس مقرر کی گئی ہے۔ زائرین کو کرونا وائرس سے محفوظ ہونے کے ثبوت کے طور پر PCR ٹیسٹ پیش کرنا ہو گا۔ یہ رپورٹ عمرہ کے لیے آنے والے زائرین میں سعودی حکومت کی منظور شدہ لیبارٹریوں کی جاری کردہ ہونی چاہیے۔ رپورٹ سفر سے 72 گھنٹے قبل تیار کی گئی ہو۔

اس کے علاوہ بیرون ملک سے آنے والے عمرہ زائرین کو الحرمین الشریفین میں عمرہ، نماز ادائیگی اور مسجد نبوی کی زیارت اور روضہ مطہرہ میں صلاہ وسلام پیش کرنے کی پیشگی منظوری لینا لازمی ہے۔ یہ منظوری ’’اعتمرنا‘‘ نامی ایپ کے ذریعے تمام قواعد وضوابط مکمل کرنے کی بعد ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ بیرون ملک سے عمرہ زائرین کو منظور شدہ مدت کے دروان مملکت آمد اور واپسی کے کنفرم ریٹرن ٹکٹ بھی پیش کرنا ہوں گے۔

بیرون ملک سے عمرہ کے لیے جانے والے زائرین کو دن کے تین کھانوں کی سہولت فراہم کرنے والے رہائش گاہ کی بکنگ کا ثبوت بھی ہمراہ لانا ہوگا۔ تین دن آئیسولیشن میں گزارنے کے دوران انہیں عمرہ ادائیگی کے وقت احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا جائے گا جن پر وہ سعودی عرب آمد سے واپسی تک انتہائی ذمہ داری سے عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔

شرائط میں عمرہ کمپنیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ عازمین عمرہ کی سفری دستاویزات میں فراہم کردہ معلومات کو سفر سے 34 گھنٹے قبل درست قرار دے کر عمرہ سسٹم میں ڈالیں۔ ہر عازم عمرہ کا ٹکٹ، فلائٹ، روانگی کا شہر، وقت، آمد کا شہر، تاریخ اور وقت سسٹم میں ایڈ کرنا لازمی ہے۔ نیز واپسی سے متعلق بھی یہی معلومات سسٹم میں ایڈ کی جائیں گی۔

اس کے علاوہ مکہ اور مدینہ میں رہائش کی تفصیل سسٹم میں شامل کی جائے گی۔ سعودی عمرہ کمپنی اور ایجنٹ ان معلومات کی صحت سے متعلق ذمہ دار ہو گا۔ ان معلومات کے غلط ہونے کی صورت میں بیرونی ایجنٹ ایسے عمرہ زائرین کو سعودی عرب آمد پر تین زورہ لازمی آئیسولیشن میں رکھوانے کے پابند ہوں گے۔ اس کا انتظام اسی ہوٹل میں کیا جائے گا، جہاں عمرہ زائرین کا قیام ہو گا۔ ایسے عمرہ زائرین کے پچاس پچاس کے گروپ بنا کر عمرہ کمپنی ان کا ایک گائیڈ مقرر کرے گی۔ ان افراد کے لیے ایک پروگرام ترتیب دیا جائے گا جس میں ان کا سفر، رہائش اور ٹرانسپورٹ شامل ہوگی۔ اس پروگرام کو بیرون ملک سے عمرہ زائرین کی ’اعتمرنا‘ اپپ میں بک شیڈول سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔

وزارت حج وعمرہ نے ہدایت کی ہے کمپنی عمرہ پیکج میں طے کردہ سہولتوں جن میں رہائش، ٹرانسپورٹ، فیلڈ سروسز، انشورنس، خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کے عمل کی نگرانی کرے گی۔ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں فوری تدارک کی کارروائی کرے گی۔ رہائش گاہ سے حرم تک لانے لے جانے، میقات تک رسائی اور ہر گروپ کے لیے گائیڈ کی تعیناتی کو یقینی بنانا بھی کمپنی کی ذمہ داری ہے۔

اس کے علاوہ وزارت حج وعمرہ کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکمے وقتا فوقتا دوسرے ملکوں سے آنے والے عمرہ زائرین کا ڈیٹا مرتب کرتے رہیں گے اور کسی ملک کے حوالے سے اگر کوئی مخصوص پروٹوکول پر عمل درآمد کرانا لازمی ہو تو اس کی پیروی کرائی جائے۔ انہیں اسی حوالے سے سفر اور رہائش کی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ کرونا وائرس کے پھیلاو کے خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube