Thursday, December 3, 2020  | 16 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

پلاسٹک بوتلوں میں دودھ، بچوں کیلیے نقصان دہ

SAMAA | - Posted: Oct 24, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 24, 2020 | Last Updated: 1 month ago

فوٹو: اے ایف پی

یورپی سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ اگر ایک لیٹر پاؤڈر والے دودھ کو پلاسٹک بوتل ڈالا جائے تو10 سے 40لاکھ باریک ذرات بھی دودھ میں شامل ہوجاتے ہیں تاہم اب تک یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ خوردبینی پلاسٹک بچے کے لیے مضر ہوسکتی ہیں یا نہیں۔

تفصیلات کے مطابق ٹرنینٹی کالج ڈبلن کے سائنسدان جان بولینڈ کا کہناہے کہ بچوں کی بوتلیں پولی پروپائلین پلاسٹک سے بنی ہوتی ہیں اور 69فیصد بوتلوں میں اسی پلاسٹک استعمال کیا جاتا ہے۔

پلاسٹک کے ذرات کےلیے جان بولینڈ اور ان کی ٹیم نے کچھ تجربات کیے

فیڈر کو 25 سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر رکھنے سے 6لاکھ فی لیٹر پلاسٹک کے ذرات جبکہ 95 سینٹی گریڈ پر پانچ کروڑ 50لاکھ فی لیٹر پلاسٹک کے ذرات ریلیز ہوتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ تحقیق کا مقصد والدین کو خوفزدہ کرنا نہیں ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ اس طرح پلاسٹک کی بہت بڑی مقدار دودھ یا کسی بھی مائع میں شامل ہوجاتی ہےلیکن پلاسٹک کے یہ ذرات بہت باریک ہوتے ہیں جو عام آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔

جان بولینڈ کا کہنا تھا کہ پلاسٹک کی بوتلیں اور دیگر اشیا دھیرے دھیرے گھلتی ہیں اور ان میں ذرات خارج ہوتے رہتے ہیں لیکن اب معلوم ہوا کہ یہ ہماری توقعات سے کہیں بڑھ کر ہیں یہاں تک کہ بوتل کو ہلانے سے بھی پلاسٹک کے لاکھوں ذرات خارج ہوتے ہیں جو ایک حیرت انگیز بات ہے۔

دوسری جانب سائنسدانوں کے مطابق ابھی یہ جاننا ضروری ہے آیا یہ ذرات کس قدر نقصان دہ ہیں، جب تک ان کا مشورہ یہ ہی ہے کہ بچوں کا دودھ کسی دھاتی برتن میں گرم کرلیں یا فارمولا بنالیں اور اس کے بعد ہلاکر اسے بوتل میں ڈال کر بچے کو پلایا جائے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube