Tuesday, October 20, 2020  | 2 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

متحدہ عرب امارات: یہودیوں کیلئے کوشر ریستوران کھولنے کی تیاریاں

SAMAA | - Posted: Oct 17, 2020 | Last Updated: 3 days ago
SAMAA |
Posted: Oct 17, 2020 | Last Updated: 3 days ago

دبئی میں دنیا کی بلند ترین عمارت برج الخلیفہ کے تحت چلنے والے ارمانی ہوٹل میں یہودیوں کیلئے پہلا کوشر ریستوران کھولنے کی تیاریاں جاری ہیں۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے کے بعد ریستورانوں اور کیٹررز کی جانب سے یہودی صارفین کیلئے کوشر ریستوران کھولنے کی تیاریوں میں تیزی آگئی ہے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق دبئی میں قائم ریستورانوں کے مالکان کو امید ہے کہ اسرائیل سے براہِ راست پروازوں کے ذریعے بڑی تعداد میں یہودی متحدہ عرب امارات آئیں گے، کوشر ریستوان میں یہودی عقائد کے مطابق ذبح کیے گئے جانوروں کا گوشت استعمال کیا جاتا ہے۔

امارات کے متعدد قوانین کوشر پکوانوں کی تیاری کیلئے ساز گار نہیں، جس کے سبب کوشر پکوانوں کی تیاری کیلئے اجزاء کا حصول کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا، کیوں کہ یہ اجزا مقامی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں۔

تعلقات کو معمول پر لانے سے متعلق طے پانے والے معاہدے کے تحت امارات اور اسرائیل فضائی رابطے قائم کریں گے، ان رابطوں کا آغاز دو ماہ بعد جنوری 2021ء میں ہوگا۔

دونوں ممالک ایک دوسرے کے شہریوں کی آمد و رفت کیلئے ویزا کا طریقۂ کار بھی طے کریں گے۔ ارمانی، لگژری ہوٹلز کے جھرمٹ کے درمیان واقع ریستورانوں میں سے ایک ہے، چالیس نشستوں تک کی گنجائش والے ارمانی ریستوران کے شیف فیبین فائیولے کا کہنا ہے کہ ہم مہینوں سے اپنے عملے کو کوشر ڈشز تیار کرنے اور دوسرے کاموں کی تربیت دے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریستوران کے کچن میں ہم انہیں تعلیم دیتے ہیں کہ وہ کیا استعمال کرسکتے ہیں اور کیا نہیں۔

فیبین نے ‘اے ایف پی’ کو بتایا کہ کوشر ریستوران کھولنے کا مقصد یہودیوں یا کوشر فوڈ کھانے کا تجربہ کرنے کے خواہشمند کسی بھی فرد کو فائیو اسٹار ہوٹل جیسی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک مقامی سپلائرز متحدہ عرب امارات کی نئی مارکیٹ میں سروسز فراہم کرنا شروع نہیں کریں گے تب تک ہمارا بنیادی چیلنج کوشر فوڈ تیار کرنے کیلئے درکار مخصوص سامان کا حصول ہوگا۔

قواعد کے مطابق کوشر پکوان بنانے کیلئے کچھ چیزوں کا دستیاب ہونا ضروری ہے جو فی الحال مقامی مارکیٹ میں دستیاب نہیں، اس کے علاوہ کوشر کھانے بنانے کیلئے بعض جانوروں اور سمندری حیات کا گوشت استعمال کرنا نیز دودھ سے بنی مصنوعات کو مکس کرنا بھی ممنوع ہے۔

مسلمانوں کیلئے حلال قواعد کی مکمل تکمیل کی طرح یہودی کھانوں کیلئے جانوروں کو لازمی طور پر مقررہ قواعد کے مطابق ذبح کیا جانا چاہیے۔

ارمانی کو سند دینے والے ربی لیوی ڈوچمین نے کہا کہ انہیں امارات کے درجنوں ریستورانوں سے درخواستیں موصول ہوئی ہیں جو کوشر پکوان پیش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کوشر میں حلال اجزاء کے استعمال کے باعث سور کا گوشت کھانے پر پابندی ہے، اس لئے امارات میں کوشر کے قواعد کی وضاحت آسانی سے کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک ربی ہی موبائل ایپلی کیشن استعمال کرتے ہوئے کوشر پکانے کیلئے چولھا جلاسکتا ہے، جبکہ کیمروں کی مدد سے کچن کی نگرانی بھی کرسکتا ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک سے گزشتہ سال ایک کروڑ 60 لاکھ افراد دبئی پہنچے تھے جبکہ اسرائیل سے نئے معاہدے کے بعد رواں برس 2 کروڑ افراد کی آمد متوقع ہے، حالانکہ دبئی کرونا وائرس سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube