Tuesday, October 20, 2020  | 2 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

پیرس: حملہ آور نے اسکول کے باہر ٹیچر کا سر قلم کردیا

SAMAA | - Posted: Oct 17, 2020 | Last Updated: 3 days ago
SAMAA |
Posted: Oct 17, 2020 | Last Updated: 3 days ago

اے بی سی نیوز

فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں کلاس روم میں گستاخانہ خاکے دکھانے والے ٹیچر کا اسکول کے باہر سر قلم کردیا گیا۔ حملہ آور اسکول میں زیر تعلیم بچے کا والد ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فرانسیسی صدر کی جانب سے حملے کو “اسلامک دہشت گرد حملہ” قرار دیا گیا ہے۔ حملہ آور نے مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجے اسکول کے قریب حملہ کرکے اسکول ٹیچر کو قتل کیا۔

اطلاعات کے مطابق اسکول ٹیچر نے مبینہ طور پر اپنے طلبا کو پیغمبر اسلام کے متنازع خاکے دکھائے تھے۔ فرانسیس صدر میکخواں کا کہنا تھا کہ استاد کو اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ وہ ‘اظہار رائے کی آزادی کے متعلق پڑھاتے تھے۔ فرانسیسی صدر نے حملے کو وحشیانہ قرار دیا ہے۔

حکام کی جانب سے ہلاک ہونے والے استاد کی شناخت کو کسی بھی ردعمل سے بچنے کیلئے چھپایا گیا ہے۔ چاقو بردار حملہ آور کو قاتلانہ حملے کے بعد پولیس کی جانب سے گرفتار کرنے کی کوشش کے دوران گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ پولیس کی جانب سے حملہ آور کی بھی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

حملے سے متعلق فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ چاقو بردار شخص نے اسکول ٹیچر پر پیرس کے نواحی علاقے کفلان سینٹے ہونورائن میں حملہ کرتے ہوئے اس کا سر قلم کیا۔ حملہ آور نے قتل کے بعد وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن وہاں موجود لوگوں نے فوراً پولیس کو اطلاع دے دی۔

پولیس کا جائے وقوعہ کے قریبی علاقے میں ہی حملہ آور سے سامنا ہوا اور جب انہوں نے اسے گرفتاری دینے کا کہا تو بتایا جاتا ہے کہ اس نے پولیس کو دھمکانے کی کوشش کی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پیرس میں یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب کہ سال 2015 میں چارلی ایبڈو کے دفتر پر حملے میں 2 جہادیوں کی سہولت کاری کے الزام میں 14 افراد پر مقدمہ چل رہا ہے۔ اس واقعے میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 3 ہفتے قبل بھی ایک حملہ آور نے اس میگزین کے سابقہ دفاتر کے باہر حملہ کر کے 2 افراد کو زخمی کیا تھا۔

فرانسیسی ادارے اے ایف پی ککی جانب سے جاری اطلاعات کے مطابق پولیس نے حملہ آور سے تعلق رکھنے والے 4 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

فرانس کے “لے مونڈے اخبار” کے مطابق قتل ہونے والے اسکول ٹیچر تاریخ اور جغرافیے کے استاد تھے اور وہ اپنی کلاس میں طلبا کے ساتھ آزادی اظہار رائے کے متعلق بات کر رہے تھے۔ انہوں نے پیغمبر اسلام کے متنازع خاکوں کے بارے میں بات کی تھی جسے “چارلی ایبڈو میگزین” نے شائع کیا تھا اور اس پر بہت سے اسلامی ممالک میں غم و غصہ پایا گیا تھا۔

فرانسیسی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل رواں ماہ چند مسلمان والدین نے اسکول انتظامیہ سے اس استاد کی جانب سے چارلی ایبڈو کے مقدمے کے بارے میں بحث کرتے ہوئے متنازع خاکوں کے استعمال پر شکایات بھی کی تھیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube