Tuesday, October 20, 2020  | 2 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

آذربائیجان، ارمینیا میں جھڑپیں، ہلاکتوں کی اطلاعات

SAMAA | - Posted: Sep 27, 2020 | Last Updated: 3 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 27, 2020 | Last Updated: 3 weeks ago

Photo/AFP

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تازہ ترین سرحدی جھڑپوں کے بعد قفقاز خطے میں نہ صرف دو روایتی حریفوں کے مابین جنگ کے خدشات بڑھ گئے بلکہ تیل اور گیس کی ترسیل بھی خطرے میں پڑگئی ہے۔ دوسری جانب ترکی نے آرمینیا کو امن کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے آذربائیجان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق آذربائیجان اور آرمینیا کی فورسز کے مابین ایک متنازع سرحدی علاقہ ‘کھارا باغ’ میں جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں عام شہری اور فوجی ہلاکتوں کی اطلاعات کی ہیں جبکہ ایک بچے کی موت کی تصدیق ہوگئی ہے۔

دونوں ممالک ‘کھارا باغ’ پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں اور اس تنازع کے باعث دونوں میں جھڑپیں بھی ہوتی رہیں۔ آخری مرتبہ 2016 میں یہاں آذربائیجان اور آرمینیا کی فوج میں تصادم ہوا تھا۔

اتوار کو ہونے والے تصادم کے بعد ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف نے کہا کہ تصادم آرمینیا نے شروع کیا۔ ہمارا مقصد انصاف کی فتح ہے اور ہم یہ جنگ جیتیں گے۔

دریں اثنا آرمینیا اور ‘کھارا باغ’ خطے کی انتظامیہ نے علاقے میں مارشل لا نافذ کر کے فوج سمیت مقامی مرد آبادی کو بھی جنگ کیلئے متحرک کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آذربائیجان اور ارمینیا کا تنازع کیا ہے

آرمینین وزیر اعظم نیکول پشینیان نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں افواج سے کہا کہ ’اپنی مقدس سرزمین کے دفاع کے لیے تیار ہوجائیں۔‘

آرمینیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آذربائیجان نے آبادی اور بستیوں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور بچے کی ہلاکت ہوئی۔

آذربائیجان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے آرمینیا کی جنگی سرگرمیوں کو روکنے اور اپنی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹینکوں، توپ خانے، میزائلوں، ہوائی طاقت اور ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے ’جوابی کارروائی‘ کی ہے۔

آذربائیجان کے صدارتی محل کے ترجمان نے کہا کہ ’تصادم میں ان کے شہریوں اور فوجی اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔‘

دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ آرمینیا نے ایک دفعہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ علاقے میں امن و امان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ٹویٹر پر جاری بیان میں ایردوان نے کہا کہ آذربائیجان پر ایک اور حملے سے آرمینیا نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ علاقائی امن و امان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ترک ملت ہمیشہ کی طرح آج بھی اپنے تمام وسائل کے ساتھ اپنے آذری بھائیوں کے ساتھ ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube