Monday, October 19, 2020  | 1 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

لداخ:بھارت اورچین کامزیدفوجی نہ بھیجنے کافیصلہ

SAMAA | - Posted: Sep 24, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 24, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago

بشکریہ: ہانک کانگ ٹائمز

بھارت اور چین نے متنازعہ علاقے لداخ میں مزید فوجی تعینات نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے جاری خبروں کے مطابق بھارت اور چین کے اعلیٰ فوجی کمانڈرز نے سرحدی علاقے لداخ میں مزید اہلکار نہ بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے سرحدی کشیدگی جاری ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق منگل کو بھارت اور چین کے اعلیٰ فوجی کمانڈزر کی ملاقات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر فریقین نے گراؤنڈ پر رابطے مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا ہے تاکہ غلط فہمیوں اور غلط فیصلوں سے بچا جا سکے۔

دونوں ملکوں کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں فوجی کمانڈروں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کسی بڑی پیش رفت کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ فوجی کمانڈرز سے قبل دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ سرحدی کشیدگی کے خاتمے پر اتفاق کر چکے ہیں۔ دو سفارتی شخصیات کی ملاقات حال ہی میں روس کے دارالحکومت ماسکو میں ہوئی تھی۔

چین اور بھارت کے فوجی حکام نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے پر اتفاق پر بھی عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ فوجی کمانڈروں کی ملاقات میں ہونے والے مذاکرات کی مزید تفصیلات سرکاری طور پر دونوں ممالک نے جاری نہیں کیں۔ البتہ بھارت کا ذرائع ابلاغ فوجی حکام کی ملاقات کو اہمیت دے رہا ہے اور اس کی بھر پور کوریج بھی کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ دونوں ملکوں میں لداخ کے سرد ترین پہاڑی علاقے میں رواں سال 2020 مئی میں تنازع شروع ہوا جس کے بعد جون میں اس تنازع میں اُس وقت شدت آئی جب ایک جھڑپ میں 20 بھارتی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ تاہم بھارت کی جانب سے مسلسل جانی و مالی نقصان سے انکار کیا گیا۔ ویڈیوز منطر عام پر آنے کے باوجود بھارت واقعہ کی تردید ہی کرتا رہا۔

جھڑپ کے بعد نئی دہلی اور بیجنگ نے لداخ کے قریب سرحدی علاقوں میں مزید ہزاروں فوجی تعینات کیے تھے جب کہ ان فوجیوں کو بھاری توپ خانے، ٹینکوں اور جنگی جہازوں کی بھی مدد حاصل ہے۔

دونوں ممالک کے فوجیوں میں لداخ کی گلوان وادی میں جھڑپ کے بعد اہلکاروں کو ایک دوسرے سے اس مقام سمیت تین جگہوں پر دور تعینات کر دیا گیا ہے۔ البتہ برفانی جھیل پینگونگ سمیت تین مقامات ایسے ہیں جہاں اب بھی تنازع برقرار ہے۔

اسی دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی متنازعہ علاقے کے قریب سرحد کے دورے کی جھوٹی خبریں بھی بھارت کیلئے ہزیمت کا سبب بنیں۔ جس میں بھارتی وزیراعظم کے جھوٹے دورے کا پھول میڈیا رپورٹس میں کھولا گیا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube