Saturday, October 24, 2020  | 6 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

امریکا کے جنگلات میں آتشزدگی،4 ملزم گرفتار،24 افراد ہلاک

SAMAA | - Posted: Sep 13, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Sep 13, 2020 | Last Updated: 1 month ago

بشکریہ اے ایف پی: فرانسسکو اسکائی لائن کا ایک منظر،جو شدید آتشزدگی کے باعث دھندلا گیا

امریکا کی ریاستوں کیلی فورنیا، اوریگن اور واشنگٹن کے جنگلات میں آگ لگانے کے الزام میں 4 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ آتشزدگی کے واقعہ میں اب تک 8 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صرف اوریگن میں 10 لاکھ ایکٹر علاقہ آگ کی لپیٹ میں آچکا ہے، جب کہ کیلی فورنیا میں 19 اور اوریگن میں درجنوں افراد لاپتا ہیں۔ متاثرہ ریاستوں میں اوریگن بھی شامل ہے جہاں 5 لاکھ سے زیادہ افراد کسی نہ کسی سطح پر انخلا کے مراحل میں ہیں۔ یہ تعداد ریاست کی کل آبادی کے 10 فی صد سے زیادہ ہے۔

آگ لگانے میں ملوث دو افراد کو ریاست واشنگٹن، ایک خاتون کیلی فورنیا اور ایک مرد کو اوریگن سے گرفتار کیا گیا ہے۔ آگ رہائشی علاقوں تک پھیلنے کے سبب تینوں ریاستوں میں اموات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ کیلی فورنیا میں اب تک 24 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ اوریگن میں 8 اور واشنگٹن میں ایک شخص جاؓں بحق ہوا۔

آگ بجھانے کیلئے فائر فائٹرز کی جانب سے ہیلی کاپٹرز کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے تاہم آگ بجھانے میں تاحال کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ اب تک ہزاروں مکانات خاکستر ہوچکے ہیں اور درجنوں افراد لاپتا ہیں۔ صدر ٹرمپ پیر کو کیلی فورنیا کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔

بے گھر ہونے والے افراد کو پناہ مہیا کرنے کے لیے پورٹ لینڈ میں واقع کنونشن سینٹر کو پناہ گاہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ آگ سے بچنے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑنے والے بہت سے افراد نے بڑی بڑی پارکنگ لاٹس میں ڈیرے ڈال لیے ہیں۔

اوریگن کے جنوبی حصے میں ہائی وے کے اطراف میں میلوں تک جلی ہوئی آبادیوں کے مناظر دکھائی دے رہے ہیں۔ اوریگن کی گورنر کیٹ براؤن نے کہا ہے کہ درجنوں افراد لاپتا بھی ہیں۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مغربی ساحلی علاقے میں ریاست کیلی فورنیا سے لے کر ریاست واشنگٹن اور اس سے بھی آگے 100 سے زیادہ مقامات پر جنگلات اور جھاڑیوں میں لگی ہوئی شدید آگ قابو سے باہر ہے۔

کیلی فورنیا

کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے کہا ہے کہ یہ آب و ہوا کی حقیقی ایمرجنسی کی صورت حال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں، اگر ہم نے مل کر آب و ہوا کی تبدیلی کا عمل روکنے پر کام نہ کیا تو اس کا سامنا امریکہ بھر میں سب کو کرنا پڑے گا۔ گورنر نے بتایا کہ 68 ہزار سے زیادہ لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے کے لیے تیار رہنے کا کہہ دیا گیا ہے۔

کیلی فورنیا کے موریسنا جنگل میں ان دنوں تاریخ کی سب سے شدید آگ لگی ہوئی ہے۔ دھوئیں کے گہرے بادلوں اور جلے ہوئے باریک ذرات نے متاثرہ علاقوں کے ایک بڑے حصے کو اپنی لیپٹ میں لے لیا ہے جس سے صحت کے لیے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ان علاقوں میں عہدے دار لوگوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔

واشنگٹن

ریاست واشنگٹن کے گورنر جے انسلی نے کہا ہے کہ اس تباہی میں قدرت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ یہ ہمارے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی تباہی ہے۔ کیوں کہ ہم نے ریاست میں آب و ہوا کو ڈرامائی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ گزشتہ پانچ دنوں کے دوران ریاست واشنگٹن کے جنگلات میں لگی آگ کے جو مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں اس کی نظیر اس سے پہلے نہیں ملتی

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube