Thursday, October 29, 2020  | 11 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

امریکا نے چینی فضائیہ کو بڑا خطرہ قرار دیدیا

SAMAA | - Posted: Sep 12, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 12, 2020 | Last Updated: 2 months ago

پینٹاگون کی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین دنیا کی تیسری بڑی فضائیہ بن گئی ہے، جو بہتر ٹیکنالوجی سے تائیوان پر بھی حملہ کرسکتی ہے۔

چین کے حملہ آور ڈرونز اور فِفتھ جنریشن لڑاکا طیارے دوبارہ بننے لگے، جس کیلئے امریکی فضائیہ کو مقابلہ کرنا ہوگا۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق پینٹاگون کی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا کے لیے خطرات کا جائزہ لینے والے ماہرین نہ صرف چینی فضائیہ کے حجم پر توجہ دے رہے ہیں بلکہ وہ اس کی بڑھتی ہوئی ٹکنالوجی اور کثیر مشن تدابیر پر بھی غور کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چین اس وقت روسی ساختہ فضائی دفاعی نظاموں کو چلا رہا ہے۔ یہ دنیا کے بہترین نظاموں میں سے ہیں۔ چین کے فضائی دفاعی نظام اسٹیلتھ طیاروں کو بھی نظر میں رکھ سکتے ہیں۔ تاہم سرکاری طور پر اس دعوے کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

چینی فضائیہ کے حوالے سے امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو بات امریکا کو پریشان کر رہی ہے، وہ یہ ہے کہ اس کے حملے کے دائرہ کار میں تیزی سے اضافہ پریشانی کا سبب ہے۔ چین نے امریکا کے طیاروں سے ملتے جلتے بڑے ٹرانسپورٹ طیارے تیار کرلیے ہیں۔ ان طیاروں سے نہ صرف تائیوان پر بہتر طور پر حملہ کیا جا سکتا ہے بلکہ چین کے سمندر کے جنوب میں مزید علاقوں تک چینیوں کی رسائی میں بڑے پیمانے پر توسیع حاصل ہو گی۔

امریکی فضائیہ کے بہت سے اعلیٰ عہدے داران یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ کوششیں چینی فضائیہ کے خطرے کا سامنا کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ امریکی فضائیہ کے ایف 15 طیاروں کو جدیدہ اسلحے ، ریڈار اور تیر رفتار کمپیوٹر سسٹم سے لیس کیا جا رہا تا کہ وہ چین کے فورتھ جنریشن طیاروں جے 10 کے سامنے ٹھہر سکیں۔ اس کے علاوہ امریکی فضائیہ نے کچھ عرصہ قبل ایف 22 اسلحہ پروگرام کو جدید بنایا تاکہ اس کو مضبوط اور بہتر بنایا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے اپنے بی 2 بمبار طیارے کو نئے فضائی دفاعی الارم کے سینسروں سے لیس کررہا ہے۔ فضائیہ کے اسلحے کو جدید بنانے والوں کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت اور جدیدیت سے کسی طور بھی جلد از جلد نئے پلیٹ فارمز اور ہتھیاروں کی ضرورت ختم نہیں ہو گی۔

پینٹاگون رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ چینی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی تعداد 2500 تک پہنچ گئی ہے، جب کہ چین روسی ساختہ میزائل شکن جدید ایس 500 اور ایس 400 فضائی دفاعی نظاموں کو چلا رہا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube