Tuesday, October 20, 2020  | 2 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

چین نے لداخ میں1ہزارمربع کلومیٹرعلاقے کاکنٹرول سنبھال لیا،بھارتی دعویٰ

SAMAA | - Posted: Sep 2, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 2, 2020 | Last Updated: 2 months ago

فائل فوٹو

بھارت نے چین پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کے مطابق لائن آف ایکچوئل کنٹرول کیساتھ لداخ کا تقریباً 1 ہزار مربع کلو میٹر کا علاقہ اس وقت چین کے زیر کنٹرول ہے۔

بھارتی اخبار دی ہندو کی جانب سے جاری رپورٹ میں اس بات کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین نے ایک بار پھر مشرقی لداخ میں سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی کوشش کی ہے، جسے ناکام بنا دیا گیا۔ تاہم چین نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ڈپسانگ کے میدانی علاقے میں پیٹرولنگ پوائنٹ 10 سے 13 تک لائن آف ایکچوئل کنٹرول کا بھارتی حصہ 900 مربع کلو میٹر کے لگ بھگ چین کے زیر تسلط ہے۔ ان میں وادی گلوان میں 20 مربع کلو میٹر اور ہاٹ اسپرنگز میں 12 مربع کلو میٹر کا علاقہ مکمل طور پر چینی قبضے میں ہے۔ پینگونگ تسو جھیل کا 65 مربع کلو میٹر، جب کہ چوشل میں 20 مربع کلو میٹر کا علاقہ بھی چینی کنٹرول میں ہے۔

بھارتی اخبار میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ چین نے ایل اے سی کے پاس اپنی فضائی بیس ہوٹن پر جے ایف جنگی طیارے تعینات کر دیے ہیں جو لداخ میں سرحد سے بالکل ملحقہ علاقوں میں مسلسل پرواز کر رہے ہیں۔

پیر کو بھارتی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے بعد طے پانے والے معاہدے کے باوجود چینی فوج نے اس علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ ہفتے کو اس وقت پیش آیا جب چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نے لداخ کی پیانگونگ تسو جھیل کے جنوبی کنارے سے سرحدی حد بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کی جسے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا دیا گیا۔

بھارتی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت تنازعات کے حل کے لیے بات چیت پر یقین رکھتا ہے لیکن اپنی جغرافیائی خود مختاری کے تحفظ کا بھی عزم رکھتا ہے۔ دوسری طرف چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے پیر کو نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ چینی افواج لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی مکمل پاسداری کر رہی ہیں اور اسے کبھی عبور نہیں کیا گیا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ سرحدی معاملات اور زمینی صورتِ حال پر دونوں ممالک آپس میں رابطے میں ہیں۔

اس سے قبل چین اور بھارت کے فوجیوں کے مابین لداخ میں تازہ جھڑپوں کی اطلاعات ہیں جس کے بعد سے چینی فضائیہ کے طیارے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے آس پاس فضا میں گشت کر رہے ہیں اور حالات کشیدہ بتائے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چین اور بھارت کے درمیان کوئی مستقل سرحد نہ ہونے کی وجہ سے دونوں ملکوں کو تقسیم کرنے والی سرحد کو لائن آف ایکچوئل کنٹرول کہا جاتا ہے۔ سطح سمندر سے 4200 میٹر اُونچی پانگونگ تسو جھیل کو دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر اسٹرٹیجک لحاظ سے اہم سمجھا جاتا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube