Thursday, January 21, 2021  | 6 Jamadilakhir, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

کرونا وائرس سے متعلق چند اچھی خبریں

SAMAA | - Posted: Aug 22, 2020 | Last Updated: 5 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 22, 2020 | Last Updated: 5 months ago

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وباء کی شدت میں قدرے کمی دیکھی جا رہی ہے، بالکل اسی طرح پاکستان بھی اب ان خوش قسمت ممالک میں شمار کیا جا رہا ہے جہاں کرونا کے نئے کیسز اور اس سے ہونیوالی اموات بھی اب کافی کم رپورٹ ہورہی ہیں۔

پاکستانی نیوز ویب سائٹ سجاگ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں اب کرونا کی شدت میں کمی کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ حفاظتی اقدامات کی بدولت بہت سے ممالک میں وباء کے پھیلاؤ کی رفتار سست ہوگئی ہے جبکہ دوسری طرف ڈاکٹروں اور دوسرے طبی عملے کو کرونا کے مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کرنے اور مؤثر علاج معالجہ فراہم کرنے میں پہلے کی نسبت زیادہ مہارت حاصل ہوگئی ہے۔

ملکی اور غیر ملکی سطح پر کچھ خبریں خاصی خوش کن ہیں جو اس وائرس کی کمزوریوں، اس کی تشخیص اور بچاؤ کے حوالے سے ہیں۔

کرونا ٹیسٹ منٹوں میں

اب کرونا کی نشاندہی کیلئے ایسا ٹیسٹ بھی ایجاد کرلیا گیا ہے جس کی بدولت چند سیکنڈ میں یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کسی شخص کے جسم میں یہ وائرس موجود ہے یا نہیں۔

یہ ٹیسٹ اسرائیل کے ماہرین نے تیار کیا ہے۔ اس میں مشتبہ مریض ایک خاص قسم کے محلول کو منہ میں رکھ کر غرارہ کرتا ہے جس کے بعد اس کے  تھوک کا نمونہ ایک مخصوص شیشی میں ڈال کر اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے جس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس شخص میں یہ وائرس موجود ہے یا نہیں۔

کرونا کمزور ہے

اس حوالے سے ایک اور مثبت پیشرفت سائنس دانوں کو ملنے والا یہ ثبوت ہے کہ کرونا وائرس اتنا طاقتور نہیں کہ وہ ایک مضبوط مدافعتی نظام کے سامنے کھڑا ہو سکے۔

برطانیہ کی ساؤتھمپٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے تجربات کے بعد کہا ہے کہ کرونا وائرس کے اردگرد حفاظتی حصار بہت کمزور ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس کیلئے خود کو ایک مؤثر مدافعتی نظام اور ویکسین کی موجودگی میں زندہ رکھنا ممکن نہیں، اس پیشرفت کا کرونا وائرس کیخلاف ایک کامیاب ویکسین کی تیاری میں ایک اہم کردار دیکھا جا رہا ہے۔

بس تھوڑا اور انتظار

کرونا وائرس کے حوالے سے ایک اور اہم خبر یہ ہے کہ اس پر قابو پانے والی ویکسین اب جلد ہی دستیاب ہوجائے گی۔

برطانیہ میں بنائی جانے والی متعدد ویکسینز میں سے ایک کے بارے میں یہ اطلاعات آرہی ہیں کہ اس کے انسانوں پر تجربات چند روز میں شروع ہورہے ہیں اور یہ آئندہ ماہ تیار ہوکر مارکیٹ میں پہنچ جائے گی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے تحقیقی مرکز میں بنائی جانیوالی اس ویکسین پر پیشرفت کو ماہرین نے غیرمعمولی کامیابی قرار دیا ہے۔

چند روز پہلے روس نے بھی کرونا کے خلاف پہلی ویکسین بنانے میں کامیابی کا دعویٰ کیا تھا جس کی بڑے پیمانے پر تیاری بھی شروع ہوچکی ہے۔ اگرچہ اس ویکسین کی تیاری کے عمل کی ‘تیز رفتار’ پر بعض ماہرین نے تحفظات ظاہر کیے ہیں مگر بڑے پیمانے پر اس کے استعمال کے بعد ہی اندازہ ہوگا کہ یہ کرونا وائرس کے خلاف کتنی مؤثر ہے۔

چین پاکستان کو ویکسین دے گا

ویکسین کی تیاری کے حوالے سے ایک اور اچھی خبر یہ ہے کہ چین اپنے ہاں تیار ہونیوالی ویکسین انسانوں پر تجربات کیلئے جلد ہی پاکستان کو مہیا کرے گا۔ آزمائش پر پورا اترنے کے بعد جب یہ ویکسین بڑے پیمانے پر تیار کی جائے گی تو چین اس کی 5 سے 6 کروڑ خوراکیں فوری طور پر پاکستان کو مہیا کرے گا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube