Friday, October 23, 2020  | 5 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

گوتم گمبھیرکورافیل طیاروں پرٹوئٹ مہنگی پڑگئی،ابھی نندن کی یاد دلادی

SAMAA | - Posted: Aug 1, 2020 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 1, 2020 | Last Updated: 3 months ago

بشکریہ بھارتی ذرائع ابلاغ

بھارتی کرکٹر گوتم گمبھیر کی فرانس سے لیے گئے جدید جنگی رافیل طیاروں پر ٹوئٹ شرمندگی کا باعث بن گئی۔

سابق بھارتی کرکٹر اور بی جے پی کے رکن اسمبلی گوتم گمبھیر نے رافیل طیاروں سے متعلق ٹوئٹ تو بڑے فخر سے کی، تاہم سوشل میڈیا پر ان کا بیان سبکی کا سامان بنا گیا۔ ٹویٹ پر دنیا بھر کے صارفین کے ساتھ ساتھ عالمی صحافیوں نے بھی انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

حال ہی سیاست میں قدم رکھنے والے گوتم گمبھیر نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر فخر سے ٹوئٹ کی جس میں ایک تصویر میں رافیل طیاروں کو فضاؤں میں اڑتے ہوئے دکھایا گیا گیا ہے اور انہوں نے کیپشن دیا کہ بڑے پرندے بالآخر بھارت پہنچ گئے۔

بھارتی کرکٹر کی ٹویٹ کے جواب میں آسٹریلیا، روس اور دیگر ممالک کے صارفین ہی نہیں بلکہ صحافیوں نے بھی گوتم گمبھیر کو آڑے ہاتھوں لے لیا، جس پر گوتم گمبیھر نے چپ سادھ لی۔

روس سے تعلق رکھنے والے صارف مائیکل بورس نے گوتم گمبھیر کو جواب میں لکھا خیال رکھیں، انہیں پاکستان مت بھیجیں ورنہ پاکستانی پائلٹس بڑے پرندوں کا شکار کرنا خوب جانتے ہیں۔ ان بڑے پرندوں کو میرا ہی پیغام ہے کہ اپنے گھونسلوں میں رہیں اور محفوظ رہیں۔

قبل ازیں آسڑیلوی صحافی ڈینس فریڈمین نے گوتم گمبھیر کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ طیارے سرحد عبور نہ کریں ورنہ وہ جادوئی طور پر وہ اسکریپ میں تبدیل ہوجائیں گے۔

دنیا بھر کے صارف نے نہ صرف انہیں پاکستانی ایئر فورس سے چھیڑ چھاڑ نہ کرنے کی وارننگ دی، بلکہ کئی صارفین کی جانب سے انہیں 27 فروری کی یاد بھی دلائی گئی، جب بھارت مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوا اور بھارت کو دنیا بھر میں ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔

کئی لوگوں نے تو انہیں ابھی نندن کی چائے بھی یاد دلائی۔ کچھ منچلے صارفین نے یہ تک کہا کہ رافیل بھارت پہنچنے کے بعد پاکستان میں چائے کی پتی کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے۔

ایک صارف نے گوتم گمبھیر سے پوچھا کہ یہ طیارے ایک مرتبہ پھر چائے پینے آرہے ہیں؟ جب کہ بھارتی طیاروں کو نشانہ بنانے والے پاک فضائیہ کے بہادر ونگ کمانڈر نعمان اور اسکوادڑن لیڈر حسن صدیقی کی تصاویر بھی شیئر کی گئیں۔

کچھ لوگوں نے بھارتی ایئرفورس سے پوچھا کہ وہ یہ رافیل طیارے کب کریش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت نے 4 برس قبل فرانس کے ساتھ جن رافیل جنگی طیاروں کا سودا کیا تھا ان میں سے 5 طیارے بھارتی ریاست ہریانہ کے انبالہ فضائی اڈے پر پہنچ گئے ہیں، جس کے لیے حکومت نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے۔ طیاروں کی آمد سے قبل مقامی پولیس نے ایئر بیس کے آس پاس واقع 4 گاؤں میں امتناعی احکامات کے تحت دفعہ 144 نافذ کی۔ کسی بھی شخص کو ان جنگی طیاروں کی تصویر نہ لینے کی سخت ہدایت جاری کی گئیں، جب کہ پولیس کا کہنا ہے کہ طیارے کی لینڈنگ کے وقت لوگوں کو چھت پر چڑھنے سے بھی منع کیا گیا۔

بھارتی فضائیہ کے سابق سربراہ بی ایس دھنوا نے کہا کہ رافیل گیم چینجر ثابت ہوں گے۔ بھارت نے 2016 میں 36 رافیل طیاروں کا سودا کیا تھا۔

بھارت آنے والے 5 رافیل 27 جولائی کو فرانس سے روانہ ہوئے اور متحدہ عرب امارات کی الظفرہ ایئر بیس پر رکے اور وہاں سے بدھ کے روز سیدھے بھارت پہنچے۔ بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بھی ٹوئٹ کے ذریعے طیاروں کی آمد کی اطلاع دی۔ اس موقع پر بھارتی فضائیہ کے سربراہ آر کے ایس بھدوریہ بھی وہاں موجود تھے۔ قبل ازیں انڈین فضائیہ نے فضا میں 30 ہزار فٹ کی بلندی پر ان طیاروں میں ایندھن بھرنے کی تصاویر بھی شیئر کی تھیں۔اطلاعات ہیں کہ انڈیا ان جنگی طیاروں کے لیے ہیمر مزائل خریدنے کے ایک سودے کو بھی حتمی شکل دے رہا ہے۔

بھارت بھیجے گئے فرانسیسی طیارے ایک جیسے نہیں۔ حکام کے مطابق ان میں کچھ ایک سیٹ والے تو بعض 2 سیٹوں والے ہیں۔ جنگی طیارے تقریباً 7 ہزار کلو میٹر کا سفر طے کرتے ہوئے انڈیا پہنچے ہیں۔ جنگی طیاروں کو انڈین فضائیہ کے پائلٹس اڑا کر انڈیا لائے۔ طیارہ ساز کمپنی دساؤ کمپنی نے انڈین فضائیہ کے پائلٹس اور انجینئرز کو اس طیارے اور اس میں نصب میزائل اور بموں کے بارے میں مکمل تربیت فراہم کی ہے۔

ان جنگی جہازوں کو فصائیہ میں شامل کیے جانے کی باضابطہ تقریب آئندہ مہینے کسی وقت متوقع ہے۔ انڈین فضائیہ نے حال میں روس سے 21 اضافی مگ – 29 اور 12 سوکھوئی ایس یو – 30 ایم کے آئی جنگی طیارے خریدنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

بھارت نے 2010ء میں فرانس کی ڈسالٹ ایوی ایشن کمپنی سے ایک سو سے زائد رافیل جنگی طیارے خریدنے کی بات شروع کی تھی لیکن 2014ء میں مودی کی حکومت اقتدار میں آئی اور اس نے 2016ء میں 59 ہزار کروڑ روپے میں 36 رافیل جنگی طیارے خریدنے کا معاہدہ کر لیا۔ اس کے تحت ڈسالٹ نے انڈیا میں 50 فیصد رقم کی سرمایہ کاری کا بھی وعدہ کیا اور اس کے تحت جہاز کے چھوٹے پُرزے بنانے کے لیے ارب پتی انیل امبانی کی کمپنی ریلائنس سے معاہدہ کیا گیا تھا۔

یہ جنگی طیارے ایک ایسے وقت میں انڈین فضائیہ میں شامل کیے جا رہے ہیں جب لداخ کی سرحد پر خونریز ٹکراؤ کے بعد انڈیا اور چین کے درمیان زبردست کشیدگی ہے۔ جون میں مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان ٹکراؤ میں کم از کم بیس انڈین فوجی ہلاک اور ستر سے زیادہ زحمی ہوئے تھے۔ اس وقت سے اس سرحدی خطے میں کشیدگی بنی ہوئی ہے۔

بعض اطلاعات کے مطابق ٹکراؤ کے درمیان چینی فوجی انڈین خطے میں داخل ہو گئے تھے۔ یہ چینی فوجی کئی دور کے مذکرات کے بعد بھی کئی علاقوں سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔

چین کی طرف سے انڈیا کوزیادہ مشکلات کا سامنا نہیں تھا اور وہ بیک وقت دو محاذ کھولنے کی حالت میں تھا اور نہ وہ کھولنا چاہتا تھا لیکن یہ پالیسی اب یکسر تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں انڈیا کے عسکری منصوبے اور پالیسیاں پاکستان کے گرد مرکوز ہوا کرتی تھیں۔ گزشتہ 30 برس سے انڈیا اور پاکستان کی سرحد اور کنٹرول لائن دنیا کا سب سے متحرک فوجی خطہ رہی ہے۔ کوئی باضابطہ جنگ نہ ہونے کے باوجود یہ دنیا کی چند خطرناک ترین سرحدوں میں سے ایک ہے۔

پاکستان،چین اور بھارت کا دفاعی بجٹ

ملکوں کے جنگی ساز وسامان کا تجزیہ کرنے والے معروف ادارے فائر پاور کے مطابق انڈیا کا سالانہ دفاعی بجٹ 71 ارب ڈالر کا تھا جبکہ چین کا بجٹ261 ارب ڈالر کا ہے۔ انڈین فوج میں 1444000 فوجی ہیں جبکہ چین میں 2183000 فوجی ہیں، جب کہ پاکستان میں یہ تعداد 620000 ہے۔

چین کے پاس جنگی طیاروں کی تعداد 3210 ہے جبکہ انڈیا کے پاس 2123 طیارے ہیں اور پاکستان کے پاس 951 طیارے ہیں ۔ چین کے پاس فوجی نوعیت کے 911 ہیلی کاپٹر جبکہ انڈیا کے پاس 722 ہیلی کاپٹر ہیں۔

انڈیا کے پاس 4292 اور چین کے پاس 13050ٹینک ہیں، چین کے پاس 40000 بکتر بند گاڑیاں اور انڈیا کے پاس یہ تعداد 6686 ہے۔ انڈیا کے پاس ایک طیارہ بردار بحری جہاز ہے جبکہ چین کے پاس ان کی تعداد دو ہے۔ انڈیا کے پاس 16 آبدوزیں ہیں تو اس کے برعکس چین کے پاس 74 ہیں جبکہ پاکستان کے پاس 8 آبدوزیں ہیں۔

انڈیا کے پاس 346 ہوائی اڈے، جب کہ چین میں یہ تعداد 507 ہے۔ سیپری کی رپورٹ کے مطابق انڈیا کے پاس 150 جوہری بم جبکہ پاکستان کے پاس 160 بم ہونے کا اندازہ ہے۔ چین کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس 320 جوہری بم ہیں۔

تجزیہ کار

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت ایک جانب اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی تنازعات کو ہوا دے رہا ہے اور دوسری طرف اسلحہ خریداری پر بے دریغ اخراجات کررہا ہے۔ نئی دہلی حکومت کی جارحانہ پالیسی نے جنوبی ایشیا کا امن متاثر کرکے اسے تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube