Sunday, September 27, 2020  | 8 Safar, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

ترکی کی آيا صوفيا کی مختصر تاریخ

SAMAA | - Posted: Jul 24, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 24, 2020 | Last Updated: 2 months ago

کمال اتاترک نے1953 میں مسجد کو میوزیم میں بدلا

ترکی میں آيا صوفيا کی عمارت 537 عيسوی ميں تعمير کی گئی اور ابتدا ميں اسے مشرقی آرتھوڈکس گرجا گھر کے طور پر استعمال کيا گيا۔ 1204 ميں صليبيوں نے رومن کيتھولک کتھيڈرل ميں منتقل کيا جبکہ 1261 میں اسے دوبارہ آرتھوڈاکس چرچ بنایا گیا۔

اس کے بعد سن 1453 ميں جب عثمانیوں نے استنبول فتح کیا تو سلطان محمد ثانی نے اس عمارت کو خريد کر اسے مسجد کا مقام عطا کيا۔

مشہور عثمانی ماہر تعمير سنان نے اس عمارت کے گنبد کے ساتھ 4 مينار تعمير کيے۔ مسجد کے اندر تصاوير ہٹا کر ان کی جگہ اسلامی خطاطی کی گئی۔

آيا صوفيا ميں 600 سال تک تکبير کی صدائيں گونجتی رہيں ليکن خلافت عثمانيہ کا خاتمہ کرنے والے مصطفیٰ کمال اتاترک نے 1935 ميں مسجد کو ميوزيم ميں بدل ديا۔ 1985 ميں يونيسکو نے اس عمارت کو عالمی تاريخی ورثے ميں شامل کيا جو کہ 2019 ميں يہ 38 لاکھ سياحوں کے ساتھ ترکی کا معروف ترين مقام تھا۔

ترک عدالت نے 10 جولائی 2020 کو ميوزيم کو غيرقانونی قرار دے کر اسے دوبارہ مسجد بنانے کا حکم ديا، جس کے بعد ترک صدر نے حکم نامہ جاری کرديا۔ 86 برس بعد ايک بار پھر آيا صوفيا ميں مسجد کی نئی تختی لگا دی گئی ہے۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

  1. TMKB  July 26, 2020 12:30 pm/ Reply

    اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیاغم ہے
    کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube