Monday, August 10, 2020  | 19 Zilhaj, 1441
ہوم   > بین الاقوامی

ایران نے بھارت کو چاہ بہار پراجیکٹ سے نکال دیا

SAMAA | - Posted: Jul 14, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Jul 14, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago

فائل فوٹو: بشکریہ ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی

ایران نے چاہ بہار کے پراجیکٹ سے بھارت کو نکال دیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ بھارت وقت پر ادائیگی نہیں کر رہا تھا۔

بھارتی خبر رساں اداروں کی جانب سے جاری اطلاعات کے مطابق بھارت کی جانب سے مسلسل تعطل اور فنڈز نہ دینے کے بہانوں پر ایران نے اہم چاہ بہار پراجیکٹ سے بھارت کو نکال دیا ہے۔ 

بھارتی حکومت کی جانب سے پراجیکٹ میں تاخیر اور فنڈنگ کی فراہمی میں تعطل امریکی پابندیاں بتائی گئی ہیں۔ بھارت کہ مطابق امریکی پابندیوں کے باعث ایران کے ساتھ کیے گئے منصوبے کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔ اس پراجیکٹ کیلئے بھارتی کمپنی ارکون کو ٹھیکہ دیا گیا تھا، جس کے انجینییرز نے کئی بار سائٹ کے دورے کیے۔

دوسری جانب ایران نے فنڈز میں تاخیر کرنے پر بھارت کو پراجیکٹ سے الگ کیا، فیصلے کے بعد اب ایرانی حکومت نے اپنے طور پر ریل لائن کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت اور ایران کے درمیان 4 سال قبل یہ معاہدہ طے پایا گیا تھا، جس کے تحت افغانستان کی سرحد کیساتھ چاہ بہار سے زاہدان تک ریلوے لائن کی تعمیر ہونی ہے۔

 بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے 2016 میں ایران کا دورہ کیا تھا، جس کے دوران انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی کے ساتھ ریل پراجیکٹ پر دستخط کیے تھے۔

 یہ تجارتی راستہ بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں کاندھلہ بندرگاہ کو ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے جوڑتا ہے۔

بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایران نے پراجیکٹ شروع کرنے اور فنڈنگ میں تاخیر کرنے پر بھارت کو اس پراجیکٹ سے الگ کر دیا ہے۔ ایرانی حکام نے بھارتی میڈیا کو بتایا ہے کہ پورا پراجیکٹ مارچ 2022ء تک مکمل ہوگا اور ایران اس ریلوے لائن کو بھارت کے بغیر مکمل کرے گا۔

گذشتہ ہفتے ایران کے وزیر ٹرانسپورٹ اور شہری ترقی محمد اسلمی نے 628 کلومیٹر طویل پٹڑی بچھانے کے منصوبے کا افتتاح کیا تھا جسے بعد میں افغانستان کے شہر زرنج تک لے جایا جائے گا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایران کی جانب سے یہ قدم اس اہم موقع پر اٹھایا گیا ہے، جب چین کی جانب سے ایران کیساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو وسعت دینے کیلئے 25 سالہ 400 ڈالر کا بڑا معاہدہ کیا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی صورت میں ایران کو بھارت کے مقابلے میں ایک بہترین شراکت دار میسر آگیا ہے۔ جب کہ یہ خبر بھارت کیلئے بری ہے۔ بھارت کی جانب سے اس پراجیکٹ کیلئے 8 بلین ڈالر کی ڈیل پر دستخط کیے گئے تھے۔

ماضی میں بھارت ایرانی حکام سے چاہ بہار بندرگاہ کو وسعت دینے کیلئے متواتر دباؤ ڈالتا رہا ہے، گو کہ یہ بندرگاہ فعال تو ہے لیکن اس کی گنجائش پچیس لاکھ ٹن سالانہ ہے، جب کہ اس کیلئے ایک کروڑ بیس لاکھ ٹن سالانہ کا ہدف رکھا گیا ہے۔

خلیجِ عرب سے باہر اور پاکستان کی سرحد سے محض ایک سو کلومیٹر دور چابہار ایران کی دوسری بڑی بندرگاہ ہے۔

ایران،افغانستان، بھارت اقتصادی راہداری

قبل ازیں ایران، افغانستان اور بھارت کے درمیان چاہ بہار بندرگاہ  کیلئے نئی اقتصادی راہداری کے تحت بھارت نے نئی سڑک کی بنیاد بھی رکھ دی تھی، جو افغان صوبہ ہرات کو لیمان، بالامرغب اور مہمانے سے ہوتی ہوئی شبرگان اور پھر مزار شریف کو ملائے گی۔ یہ سڑک دیگر سینٹرل ایشیائی ریاستوں اور افغانستان کے سرحدی علاقوں کے قریب سے گزرے گی، جہاں پر افغان حکومت مضبوط ہے اور طالبان ابھی بھی وہاں اپنا اثرورسوخ قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

بھارت نے فوری طورپر ایران کی بندر گاہ چاہ بہار کو ترقی دینے کیلئے ایران سے ایک سمجھوتہ بھی کیا۔ نئی سڑک جس کی تعمیر کے لئے بھارت افغانستان کو اپنے انجینیرز بھی فراہم کرنے کا وعدہ کرچکا ہے، جو ہرات کو مزار شریف سے ملائے گی

رپورٹس کے مطابق چابہار بندرگاہ کو ریلوے لنک کے ذریعے افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے ملایا جائے گا۔ اس منصوبے کو شمال جنوب راہداری کا نام دیا گیا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube