Thursday, August 6, 2020  | 15 Zilhaj, 1441
ہوم   > بین الاقوامی

آن لائن کمپنی ’شین‘ نے جائے نمازکارپیٹ بناکر فروخت کردیں

SAMAA | - Posted: Jul 7, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Jul 7, 2020 | Last Updated: 4 weeks ago

آن لائن کاروبار کرنیوالی بین الاقوامی کمپنی ’’شین‘‘ نے جائے نماز اور مسلم ثقافت سے کعبہ اور مساجد کے عکس موجود تھے۔ سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کے بعد معذرت کرتے ہوئے تمام مصنوعات ویب سائٹ سے ہٹادیں۔

بین الاقوامی کمپنی ’شین‘ کپڑے اور دیگر مصنوعات فروخت کرنیوالی آن لائن کمپنی ہے، جہاں بچوں، خواتین اور مردوں کے کپڑے، جوتے، بیگز اور دیگر ضروری گھریلو اشیاء فروخت کی جاتی ہیں، اس کا آغاز اکتوبر 2008ء میں کیا گیا تھا، اس کا کاروبار دنیا کے 220 ممالک میں جاری ہے۔

بز فیڈ نیوز ڈاٹ کام کے مطابق آن لائن ریٹیلر کی جانب سے ان کارپٹس کیلئے وضاحت میں فرنج ٹرم کارپیٹ، فرنج ٹرم گریک فریٹ کارپیٹ اور فرنج ٹرم گرافک کارپیٹ کے الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔ ان میں کچھ کارپیٹ پر خانہ کعبہ اور مساجد کے عکس بنے ہوئے تھے۔

برطانوی شہر مانچسٹر کی سلفورڈ یونیورسٹی میں جرنلزم کی 24 سالہ طالبہ خدیجہ رضوی نے اپنے انسٹاگرام پر جائے نماز سے متعلق ایک پوسٹ شیئر کی جو جلد ہی وائرل ہوگئی۔ بز فیڈ ڈاٹ کام کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں 7 جائے نماز خرید کر لائی ہوں جو کارپیٹ کے طور پر بیچی جارہی تھیں۔

اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں خدیجہ رضوی نے ان اشیاء کی اس طرح فروخت پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے اسے توہین آمیز قرار دیا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کہ کہ شین سے بار بار رابطہ کرنے اور ان کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا بھی مطالبہ کیا۔ خدیجہ نے یہ بھی لکھا کہ وہ انتہائی دلبرداشتہ ہیں کہ ’شین‘ مسلمانوں کی جائے نماز کو ایک عام کارپیٹ کے طور پر فروخت کرکے منافع کما رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صرف توہین آمیز ہی نہیں بلکہ انہوں (شین) نے اس بار نام تبدیل کرکے پورے عقیدے کی شناخت (اسے مسلمانوں کی جائے نماز کا نام نہ دے کر) چوری کرنے کی کوشش کی، جس سے لوگ اسے بطور ایک عام سجاوٹی کارپیٹ کے طور پر استعمال کرسکیں گے۔

خدیجہ نے بتایا کہ وہ شین سے کچھ اشیاء خرید چکی ہیں تاہم باقاعدہ گاہک نہیں، ان کی توجہ اس جانب ایک انسٹاگرام فالوور نے دلائی تھی، جس پر میرا پہلا رد عمل شدید غصہ تھا، میں بہت دل گرفتہ تھی کہ ایک ایسی چیز جسے ہم روزانہ 5 بار نماز کیلئے استعمال کرتے ہیں اسے ایک عام کارپیٹ کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا جبکہ ہم اسے انتہائی احترام سے گھر میں رکھتے ہیں۔

آن لائن فروخت رکھی گئی مصنوعات میں کارپیٹ، کشن اور دیگر سجاوٹی اشیاء شامل تھیں، جن پر خانہ کعبہ اور مساجد کے عکس کے ساتھ رمضان کریم بھی پرنٹ تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں کہ شین کب سے قالین کے نام پر جائے نماز اور دیگر اسلامی اشیاء فروخت کررہا تھا تاہم اس پر آنے والے تاثرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مئی سے جاری تھا۔

انسٹا گرام پوسٹ اور ٹویٹر پر بہت سے صارفین نے خدیجہ رضوی سے اتفاق کرتے ہوئے جائے نماز کو عام قالین کے طور پر بیچنے کو اشتعال انگیز قرار دیا۔

خدیجہ کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ان کی پوسٹ اس طرح وائرل ہوجائے گی۔ میں نے صرف اپنے غصے کا اظہار کیا، جس  کے بعد ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا، جس کے باعث یہ مصنوعات فروخت سے ہٹا دی گئیں، ہم نے یہ سب مل کر کیا۔

برطانوی طالبہ نے مزید کہا کہ ایک صحافی اور سماجی کارکن ہونے کے ناطے میں سمجھتی ہوں کہ اپنے پلیٹ فارم کو آگاہی کیلئے لوگوں کیلئے آواز اٹھانے کیلئے استعمال کرنا میرا فرض ہے۔

ہزاروں کی تعداد میں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کڑی تنقید کے بعد ’شین‘ نے اپنے بیان میں معافی مانگتے ہوئے لکھا کہ ہماری کمیونٹی کیلئے، ہم نے جائے نماز (عبادت کی چٹائیوں) کو بطور سجاوٹی قالین کے فروخت کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بڑی کوتاہی تھی جس پر ہم تہ دل سے معذرت خواہ ہیں۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ یہ تمام مصنوعات فوری طور پر اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دی گئیں، اور آئندہ ایسے کسی بھی واقعے سے بچنے کیلئے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل ایک پراڈکٹ ریویو کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube