Saturday, October 24, 2020  | 6 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

امریکا:آن لائن کلاسزلینےوالےغیرملکی طلبہ کوملک چھوڑناہوگا،پاکستانی طلبہ بھی متاثر

SAMAA | - Posted: Jul 7, 2020 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 7, 2020 | Last Updated: 4 months ago

امریگریشن حکام نے واضح کردیا

امریکا نے غیر ملکی طلبہ کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی۔ امریکی انتظامیہ کا نئے فیصلے کے مطابق مکمل آن لائن کلاسز دینے والی یونیورسٹیز آنے والے غیر ملکی طلبہ کو امریکا میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ،یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس وقت امريکا ميں تقریباً 8 ہزار پاکستانی طلبا زير تعليم ہيں جن کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

امریکا میں مقیم نمائندہ سما یاسر فیروز کے مطابق امریکی امریگریشن حکام کا کہنا ہے کہ پہلے سے امریکا میں موجود غیر ملکی طلبہ کو آن لائن سے ہٹ کر بھی کورسز لینا ہوں گے۔ امریکا میں رہنا ہے تو ان یونیورسٹیز میں داخلہ لینا ہوگا جو آن کیمپس کلاسز دے رہی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا میں بڑی یونیورسٹیز نے اگلے سیمسٹر میں بھی آن لائن تعلیم دینے کا اعلان کیا ہے۔

یاسر فیروز کے مطابق حکام کے مطابق ايف ۔ ون اور ايم ۔ ون ويزا رکھنے والے طالبعلموں کا امريکا ميں رہنا غير قانونی قرار پائے گا۔ انہيں امريکا چھوڑنا ہوگا۔ ليکن اگر وہ امريکا ميں رہنا چاہتے ہيں تو پھر انہيں نئے سميسٹر کے ليے ان يونيورسٹيوں ميں داخلہ لينا ہوگا، جو آن کيمپس کلاسيں دے رہی ہيں۔ امریکا میں 4 ہزار سے زائد يونيورسٹی اور کالج اگلے سميسٹر ميں بھی آن لائن تعليم دينے کا اعلان کر چکے ہيں۔

امریکی صدر ٹرمپ

دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اسکول اور یونیورسٹیوں میں جتنا جلدی ممکن ہو تعلیمی سلسلے کو بحال کیا جائے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا میں یونیورسٹیز اور اسکول جلد کھولے جائیں۔ تاہم امریکی ماہر تعلیم البتہ امیگریشن کے اس فیصلے پر شدید تنقید کررہے ہیں۔ ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ڈیموکریٹس اسکولوں کو بند رکھنا چاہتے ہیں اور وہ ایسا عوام کی صحت کے لیے نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے لیے کرنے کے خواہاں ہیں۔ ڈیموکریٹس کا خیال ہے کہ اسکولوں کی بندش سے انہیں رواں برس نومبر میں صدارتی انتخابات میں فائدہ ہو گا لیکن وہ غلط ہیں۔

امریکی محکمہ امیگریشن ایند کسٹم

امریکا کے وفاقی محکمہ امیگریشن ایند کسٹم نے غیر ملکی طلبہ سے متعلق ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس کے مطابق آن لائن کلاسز لینے والے غیر ملکی طلبہ کو امریکہ چھوڑنا ہوگا۔ پیر کو جاری کردہ ہدایت نامے میں کالجز کو کہا گیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے خدشے کے باوجود تعلیمی سال کا آغاز کریں۔

​محکمہ امیگریشن کے مطابق ان طلبہ کے ویزا کی تجدید نہیں کی جائے گی جو امریکا میں رہتے ہوئے آن لائن کلاسز لے رہے ہیں اور ایسے طلبہ پر آن لائن کلاسز لینے پر بھی پابندی ہو گی۔ بعض کالجز غیر ملکی طلبہ کو آن لائن کے ساتھ ساتھ کالج آ کر کلاسز لینے کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ نئے ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی طلبہ کو ذاتی حیثیت میں بعض کلاسز لینا لازم ہو گا۔

محکمہ امیگریشن کے مطابق مکمل طور پر آن لائن کلاسز آفر کرنے والے کالجز میں زیرِ تعلیم غیر ملکی طلبہ کو کسی اور کالج میں منتقل ہونے پر مجبور کیا جائے گا۔

امریکا میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ

امریکی یونی ورسٹیزیز میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ نے نئے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا بہت سے خواب لے کر آتے ہیں۔ یہ خبر آنے کے بعد بہت زیادہ تشویش ہے۔ اپنی یونیورسٹیز سے رابطہ کیا ہے مگر حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

اس بے یقینی کی صورت حال پر ایک اور زیر تعلیم پاکستانی کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی جا کر زندگی خطرے میں ڈالیں یا ڈی پورٹ کر دیے جائیںگے۔

واضح رہے کہ امریکا میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد تعلیمی اداروں نے آن لائن کلاسز کا آغاز کیا تھا جس سے غیر ملکی طلبہ بھی مستفید ہو رہے تھے۔ غیر ملکی طالب علموں کی موسم خزاں کے سمسٹر کے دوران آن لائن کلاسز ہوں گی۔

کیلی فورنیا یونی ورسٹی اور ہاورڈ یونیورسٹی

گزشتہ ہفتے یونیورسٹی آف ساوتھ رن کیلی فورنیا نے طلبہ کی کلاسز کے منصوبے کا اعلان واپس لیتے ہوئے کہا تھا کہ تمام کلاسز آن لائن ہی ہوں گی۔ امریکا کے درجنوں کالجز نے نئے تعلیمی سال کے دوران ذاتی حیثیت میں کالج آ کر کلاسز لینے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ہاورڈ یونیورسٹی نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ وہ فرسٹ ٹرمپ کے طلبہ کو کیمپس میں بلائیں گے لیکن تمام کلاسز آن لائن ہی ہوں گی۔

امریکن کونسل آن ایجوکیشن

امریکن کونسل آن ایجوکیشن کے سینئر نائب صدر ٹیری ہارٹل کا کہنا ہے کہ محکمہ امیگریشن کے نئے ہدایت نامے نے ان کالجز کو الجھن میں ڈال دیا ہے جو نئے تعلیمی سال کی تیاریاں کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اگر ایک طالب علم اپنا تعلیمی سال ادھورا چھوڑتا ہے تو اسے سفری پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ ٹیری ہارٹل نے مزید کہا کہ امریکن کونسل آن ایجوکیشن تعلیمی اداروں کو کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے چاہے کرونا وائرس کی وجہ سے جو بھی حالات ہوں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube