Wednesday, August 12, 2020  | 21 Zilhaj, 1441
ہوم   > بین الاقوامی

سعودی تنصیبات پر حملوں میں ایرانی میزائل استعمال ہوئے، اقوام متحدہ

SAMAA | - Posted: Jun 13, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 13, 2020 | Last Updated: 2 months ago

اقوام متحدہ کے سيکريٹری جنرل انتونيو گوئتریس کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس متعدد سعودی تنصيبات پر حملوں ميں استعمال ہونیوالے ميزائل ايرانی ساخت کے تھے۔ انہوں نے يہ بات سلامتی کونسل کو ايک رپورٹ ميں بتائی۔ ايران کی وزارتِ خارجہ نے رپورٹ کو دباؤ کا نتيجہ قرار ديتے ہوئے يکسر مسترد کرديا۔

گزشتہ سال سعودی تنصیبات پر ایرانی ساختہ میزائلوں سے حملہ کیا گیا تھا، اقوام متحدہ کے سيکريٹری جنرل نے سلامتی کونسل ميں واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ پيش کردی۔

انتونيو گوئتریس کے مطابق مئی 2019ء ميں عفيف ميں تيل کی تنصيبات پر ہونیوالے حملے ہوں يا جون اور اگست 2019ء ميں ابہا انٹرنيشنل ايئر پورٹ اور ستمبر 2019ء ميں آرامکو تنصيبات پر ميزائل حملے، ان سب ميں ایرانی ہتھيار استعمال کئے گئے، يہی نہيں امريکا نے گزشتہ سال جو ہتھيار اور

عسکری ساز و سامان تحويل ميں لئے تھے ان کا تعلق بھی ايران ہی سے ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ ميں ايرانی سفير نے يقين دہائی کرائی تھی کہ وہ ہتھيار برآمد نہيں کرتا، ايران کا یہ اقدام سلامتی کونسل کی ايک قرارداد کی خلاف ورزی کے زمرے ميں آتی ہے۔

ايران نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کو يکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ايسا لگتا ہے کہ اقوام متحدہ، امريکی اور سعودی حکومتوں کے سیاسی دباؤ ميں ہے۔

ايرانی وزارتِ خارجہ نے سياسی مقاصد کیلئے اقوام متحدہ کے سيکريٹريٹ کو

آلۂ کار کے طور پر استعمال کرنے پر اپنی گہری تشويش کا اظہار کيا، اور کہا کہ سیکريٹريٹ کی رپورٹ امريکا کے تباہ کن عزائم کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اس کا مقصد ايران پر غيرقانوی طريقے سے اسلحہ کی پابنديوں ميں توسيع کی راہ ہموار کرنا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube