Wednesday, September 23, 2020  | 4 Safar, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

طالبان کے امن معاہدے کے باوجود القاعدہ سے تعلقات، رپورٹ

SAMAA | - Posted: Jun 3, 2020 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 3, 2020 | Last Updated: 4 months ago

اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ افغان طالبان نے امریکا کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کے باوجود القاعدہ کے ساتھ تعلقات سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی۔ معاہدے میں طے پایا تھا کہ افغان سرزمین امریکا اور اس کے اتحادیوں کیخلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

رواں سال فروری میں امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، جس کے تحت امریکا 14 ماہ میں اپنے تمام فوجیوں کو افغانستان سے نکال لے گا، جس کے بدلے میں طالبان اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ افغانستان غیر ملکی جنگجوؤں کیلئے محفوظ پناہ گاہ نہ بن سکے۔

تاہم اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے طالبان رہنماء اب بھی القاعدہ اراکین کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ القاعدہ خاموشی سے افغانستان میں اپنی قوت میں اضافہ کررہی ہے جبکہ طالبان کے ساتھ ان کی حفاظت میں اپنی کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغان طالبان اور القاعدہ رہنماؤں کے درمیان تعاون پر تبادلہ خیال اور آپریشن کی منصوبہ بندی و تربیت کیلئے کئی ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔

اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ میں القاعدہ اور طالبان رہنماؤں کے درمیان کم از کم 6 اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ جن میں سے ایک اجلاس 2019ء کے موسم بہار میں صوبہ ہلمند میں ہوئی تھی۔ طالبان رہنماؤں نے القاعدہ کے سابق سربراہ کے بیٹے حمزہ بن لادن کو اس بات کا یقین دلایا تھا کہ امارات اسلامیہ القاعدہ کے ساتھ اپنے تعلقات کسی بھی قیمت پر ختم نہیں کرے گی۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال فروری میں طالبان کے حقانی نیٹ ورک کے اراکین نے القادہ رہنماء ایمن الظواہری سے بھی ملاقات کی۔ جس میں امریکا کے ساتھ امن معاہدے اور امن عمل سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے طالبان نے اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ کو یکسر مسترد کردیا۔ طالبان ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ رپورٹ زمینی حقائق پر مبنی نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسی رپورٹیں افغان مسائل کے حل کی تلاش کے بجائے جنگ اور افغانستان کے عوام کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنیں گی۔

اس سوال پر کہ کیا القاعدہ کے ساتھ تعلقات منقطع کرلئے؟، طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ کئے گئے معاہدے کے مندرجات پر قائم ہیں۔

سماء ڈیجیٹل نے جب استفسار کیا کہ کیا طالبان نے معاہدے پر دستخط کے بعد القاعدہ جنگجوؤں کو افغانستان سے چلے جانے کو کہا ہے؟ پر شاہین نے القاعدہ کا نام لئے بغیر کہا کہ ہم نے معاہدے کا مکمل متن اور مندرجات اپنے فیلڈ کمانڈرز کو بھجوادیئے ہیں تاکہ معاہدے کی دفعات پر عملدرآمد کرایا جاسکے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ القاعدہ کے ساتھ روابط کا خاتمہ طالبان رہنماؤں کیلئے آسان ٹاسک نہیں ہے۔

اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے مرکز برائے بین الاقوامی سلامتی اور تعاون سے تعلق رکھنے والے اسفندیار میر کا کہنا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ القاعدہ اب بھی طالبان عہدیداروں میں کافی مشہور ہے، اور امریکا کیخلاف دو دہائیوں سے لڑائی کے مشترکہ تجربے نے اس تعلق کو مزید تقویت دی ہے۔

اسفندیار میر سمجھتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ کا طالبان اور امریکا کے درمیان معاہدے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ امریکی حکومت اس بات کا ادراک رکھتی ہے کہ القاعدہ اور طالبان کے درمیان تعلقات کو توڑا نہیں جاسکتا اور یہی وجہ ہے کہ وہ افغانستان سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔

اسفند یار کا کہنا ہے کہ امریکا سمجھتا ہے کہ اس نے القاعدہ کے خطرے کو کافی حد تک محدود کردیا ہے، حالانکہ اس حوالے سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں لیکن وہ یہی سوچتے ہیں۔

میر کے خیال میں افغانستان سے امریکا کا انخلاء کافی خراب ہوگا، اس کے کافی برے اثرات ہوں گے، شاید اتنے اچھے نہ ہوں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
AFGHANISTAN, AL QAEDA, TALIBAN, US, PEACE DEAL, PAKISTAN,
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube