Saturday, August 8, 2020  | 17 Zilhaj, 1441
ہوم   > بین الاقوامی

برطانیہ کی پہلی باحجاب مسلم خاتون جج

SAMAA | - Posted: May 28, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: May 28, 2020 | Last Updated: 2 months ago

برطانیہ میں پہلی بار کسی مسلم خاتون کو ڈپٹی ڈسٹرکٹ جج کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ رفیعہ ارشد کا کہنا ہے کہ باپردہ مسلم خواتین اپنی صلاحیتوں کے مطابق مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتی ہیں اور حجاب معاشرے میں ان کی ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہوتا۔

بی بی سی کے مطابق برطانیہ کے علاقے مڈلینڈز سرکٹ میں  40 سالہ رفیعہ ارشد کو گذشتہ ہفتے ڈپٹی ڈسٹرکٹ جج مقرر کیا گیا، دیرینہ خواب کی تکمیل پر انہیں خواتین سمیت مردوں کی بھی بڑی تعداد نے مبارکباد پیش کی۔ رفیعہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے 11 سال کی عمر میں ہی قانون کا پیشہ اختیار کرنے کے خواب دیکھنا شروع کردیے تھے لیکن سوال یہ تھا کہ کیا ایک ایسی اقلیت سے تعلق رکھنے اور حجاب اوڑھنے کے باوجود وہ برطانیہ میں جج کے منصب پر فائز ہوسکتی ہیں؟۔

برطانیہ کے جوڈیشیل دفتر کے یکم اپریل 2019 کو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ اور ویلز کی ماتحت عدالتوں میں 3210 جج کام کررہے ہیں۔ ان میں صرف 205 (6 فیصد) جج سیاہ فام، ایشیائی اور دیگر اقلیتوں سے تعلق رکھتے ہیں، ان تمام ججز میں قریباً ایک تہائی 1013 (31 فیصد) خواتین شامل ہیں۔

رفیعہ ارشد شادی شدہ اور تین بچوں کی ماں ہیں۔ انہوں نے اپنے تقرر کے بعد ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہیں کہ برطانوی معاشرت میں تنوع کی آواز بلند آہنگ ہو اور صاف انداز میں سنی جائے، یہ صرف مسلم خواتین ہی نہیں بلکہ تمام خواتین کیلئے اہم ہے۔

انھوں نے بتایا کہ انہیں بطور جج تقرر کے بعد مرد و خواتین دونوں کی طرف سے ای میل کے ذریعے بڑی تعداد میں تہنیتی پیغامات موصول ہوئے ہیں اور انہوں نے بالخصوص اس بات پر خوشی کا اظہار کیا ہے کہ ایک سرپوش اوڑھنے والی خاتون بھی برطانیہ میں جج بن گئی ہے، ان میں سے بہت سے لوگوں کا پہلے یہ خیال تھا کہ ایک عورت تو برطانیہ میں بیرسٹر بھی نہیں بن سکتی، چہ جائیکہ وہ منصب قضاۃ پر فائز ہوجائے۔

رفیعہ ارشد ویسٹ یارکشائر میں پلی بڑھی تھیں، وہ بتاتی ہیں کہ قانون کا پیشہ اختیار کرتے وقت انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور خود ان کے خاندان کے افراد نے ان کے حجاب اوڑھنے کی مخالفت کی تھی اور یہ کہا تھا کہ اس صورت میں ان کی کامیابی کے امکانات معدوم ہوسکتے ہیں لیکن اس کے باجود انہوں نے ہمت ہاری اور نہ ان کے عزم میں کمی آئی۔

انہوں نے بتایا کہ ایک موقع پر اسکالر شپ کیلئے ایک ادارے میں جانے سے قبل مجھے ایک رشتہ دار نے حجاب نہ پہننے کا مشورہ تاہم میں نے یہ تجویز نہ مانی، میں حجاب پہن کر انٹرویو کیلئے گئی، میں کامیاب ٹھہری اور مجھے وظیفے کیلئے منتخب کرلیا گیا تھا، میری زندگی میں یہ ایک فیصلہ کن موڑ تھا اور اس سے میرے عزم کو مزید تقویت ملی تھی۔

رفیعہ نے 2002ء میں نوٹنگم میں ٹرینی وکیل کی حیثیت سے کام کا آغاز کیا، 2004ء میں سینٹ فیملی لاء چیمبرز میں بطور بیرسٹر کام کیا، وہ گزشتہ 15 سال کے دوران میں بچوں، جبری شادی اور اسلامی شریعت سے متعلق کیسوں کی بطور وکیل پیروی کرتی رہی ہیں، وہ اسلام کے عائلی قوانین کے موضوع پر ایک کتاب کی مصنفہ بھی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ قانون کی پریکٹس کے دوران میں اکثر متعصبانہ رویّے کا سامنا رہا اور بعض اوقات دلچسپ واقعات بھی پیش آئے، برطانیہ جیسے معاشرے میں بھی ایک محجب خاتون کو وکیل کے طور پر قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

رفیعہ ارشد نے واضح کیا کہ میرا تقرر خالصتاً میرٹ پر ہوا ہے اور اس بناء پر نہیں ہوا کہ میں حجاب پہنتی ہوں، اس میں مسلم خواتین کیلئے سبق پنہاں ہے کہ وہ بھی حجاب پہن کر زندگی کے میدانوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتی ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
UK, BRAIN, HIJAB, WOMEN, MUSLIM, JUDGE, RAFFIA ARSHAD
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube