Monday, October 18, 2021  | 11 Rabiulawal, 1443

امریکی سیاہ فام جارج فلوئیڈ کون تھا

SAMAA | - Posted: May 28, 2020 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: May 28, 2020 | Last Updated: 1 year ago

امریکی ریاست مینیسوٹا میں سفید فام پولیس اہل کاروں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والا غیر مسلح سیاہ فام شخص ایک ریسٹورنٹ میں سیکیورٹی گارڈ کے فرائض انجام دیتا تھا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق جارج فلوئیڈ امریکی ریاست مینیسوٹا کے رہائشی تھے۔ ان کی عمر 46 سال تھی اور وہ ایک سیاہ فام امریکی تھی۔

منی سوٹا پولیس نے جارج فلوئیڈ کی موت پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ جارج فلوئیڈ ایک ہوٹل میں سیکیورٹی گارڈ کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ سوشل میڈیا پر جارج کے قریبی جاننے والوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک نہایت صاف دل اور ہمدرد انسان تھا ، جو لوگوں کی خود بڑھ کر مدد کرتا تھا۔

ایک صارف کا لکھنا تھا کہ جارج خود مشکل میں ہونے کے باوجود دوسروں کی مدد کرتا، چاہیئے اس کیلئے اسے خود کتنی ہی تکلیف برداشت کرنی پڑے۔

جارج ایک قریبی جاننے والے کا لکھنا تھا کہ وہ اکثر خاموش رہتا تھا تاہم جب موڈ میں ہوتا تھا تو بہت مذاق کرتا تھا۔

تقریباً 2 روز قبل اسے ایک اور شخص کی نیلے رنگ کی گاڑی کے اوپر نشے کی حالت میں بیٹھا دیکھا گیا تھا۔ پولیس اہل کار اس کے پاس گئے اور اسے اتارنے کی کوشش کی، جس پر جارج نے مزاحمت کی اور اس دوران وہ طبی موت مر گیا۔

اپنے ایک بیان میں پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مینیپولیس میں پیش آنے والے اس واقعہ کی ابتدا کسی گاہک کی دکان پر 20 ڈالر کے جعلی بل کے استعمال کرنے کی کوشش سے ہوئی۔

پولیس اہلکار کے مطابق انہوں نے اس مشتبہ شخص کو ہتھکڑیاں لگائی، تاہم اس دوران انہیں وہ طبی تکلیف میں مبتلا دکھائی دیئے۔ ایک عینی شاہد کی بنائی گئی ویڈیو میں اس شخص (جارج) کو دیکھا جا سکتا ہے، جسے پولیس افسر نے زمین پر دبوچا ہوا ہے اور ایک موقع پر وہ کہتا ہے، مجھے مت مارو، پولیس اہل کاروں نے اپنے گھٹنے کو اس کی گردن پر زور دے کر دبوچھا ہوا تھا۔

عینی شاہدین نے آفیسر کو کہا کہ وہ اپنا گھٹنا اس شخص کی گردن سے ہٹا لیں کیونکہ وہ حرکت نہیں کر رہا تھا۔ ایک عینی شاہد نے کہا اس کے ناک سے خون آ رہا ہے، جب کہ ایک اور نے التجا کی کہ اس کی گردن چھوڑ دو۔ اسٹریچر اور پھر ایمبولینس میں ڈالنے سے پہلے وہ شخص بے حس و حرکت نظر آیا۔

پولیس اہل کاروں کی جانب سے غیر مسلح شخص کی ہلاکت کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد امریکا کے مختلف شہروں میں مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔ کئی شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ مشتعل شہریوں نے پولیس کی گاڑیوں پر نسل پرستانہ نعرے لکھے اور پولیس اسٹیشن کی عمارت پر پتھراؤ کیا۔

پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا گیا۔ مظاہرین کی جانب سے پولیس کی گاڑیوں پر پینٹ پھینکا گیا جبکہ پولیس اہلکاروں اور تھانے کی عمارت پر پتھراؤ کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر ہلاک ہونے والے شخص کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں جارج فلوئیڈ نامی 46 سالہ سیاہ فام شخص کی گردن کو ایک پولیس اہلکار نے اپنے گھٹنے سے دبا رکھا ہے جس کی بعد میں موت کی خبر سامنے آئی۔

اعلیٰ حکام کی جانب سے واقعہ میں ملوث 4 پولیس اہل کاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔ مینی کے میئر جیک فرے کا کہنا ہے کہ سیاہ فام ہونا موت کی سزا نہیں ہونا چاہیے، جب کہ 4 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کسی ہتھیار کا استعمال نہیں کیا گیا جب کہ واقعے کی فوٹیج مینیسوٹا کے ادارہ برائے گرفتاری مجرمان (بیورو آف کریمنل ایپریہینشن) کے حوالے کر دی گئی ہے، جو اس واقعے کے تفتیش کر رہے ہیں۔ واقعہ کی تفتیش ایف بی آئی بھی کرے گی۔

اخبار اسٹار ٹریبیون کے ایک صحافی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ انھیں پولیس کی جانب سے فائر کی گئی ایک ربڑ کی گولی لگی۔

واقعہ سے ایرک گارنر کی یاد تازہ ہو گئی ہے جو کہ اسی حالت میں سال 2014 میں پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہوئے تھے۔ ان کی ہلاکت سے پولیس کی بربریت کے خلاف احتجاج شروع ہوا تھا جس سے ‘بلیک لائف میٹرز’ (سیاہ فاموں کی زندگیاں بھی اہمیت رکھتی ہیں) نامی تحریک نے جنم لیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube