Monday, September 21, 2020  | 2 Safar, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

چینی صدر نے فوج کو جنگ کی تیاری کا حکم دے دیا

SAMAA | - Posted: May 27, 2020 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: May 27, 2020 | Last Updated: 4 months ago

بھارت کے ساتھ صورت حال بگڑنے پر چین کے صدر شی جن پنگ نے چینی فوج کو کسی بھی ممکنہ جنگ کیلئے فوری تیاری کا حکم دے دیا۔ خیال رہے کہ دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد 3 ہزار 400 کلومیٹر (2،100 میل) ہے۔

علاقے کا جغرافیہ

سکم کا ناکو لا سیکٹر جہاں چین اور بھارت کے مابین پہلی جھڑپ ہوئی، یہ ہمالیہ میں سطح سمندر سے 5 ہزار میٹر (16،400 فٹ) سے زیادہ بلند ہے۔ دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد 3 ہزار 400 کلومیٹر (2،100 میل) ہے۔ چین، بھارت کے شمال مشرقی علاقے میں 90 ہزار اسکوائر کلومیٹر کا دعویٰ کرتا ہے البتہ بھارت کا کہنا ہے کہ چین نے مغربی ہمالیہ میں اس کے 38 ہزار اسکوائر کلومیٹر علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ سرحدی تنازع پر دونوں ممالک کے متعلقہ حکام نے 20 مرتبہ ملاقات کی تھی لیکن کوئی بھی اہم پیشرفت نہ ہو سکی تھی۔

چکن نیک

بھارت اور چین کی سرحدیں ہندوستان کے انتہائی اہم اہمیت کے حامل علاقے سلگری کوریڈور سے ملتی ہیں، جسے چکن نیک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ چکن نیک کے علاقے میں موجود بھارت کی 7 ریاستوں کی سرحدیں چین، بھوٹان اور نیپال سے ملتی ہیں، اور اس خطے کی اہم ریاست سکم ہے، جس کی سرحدیں بیجنگ اور نئی دہلی کو ملاتی ہیں۔

بھارتی ریاست سکم کی سرحدیں چین کے علاقے تبت سے ملتی ہیں،ریاست سکم انڈیا کی آبادی کے لحاظ سے دوسری چھوٹی ترین ریاست ہے، مگر اس کی اسٹریٹجک اہمیت نہایت ہی اہم ہے۔

چین بھارت کی شمال مشرقی ریاست آندھرا پردیش پراپنا حق تسلیم کرتا ہے، کیوں کہ وہاں تبتی نسل کے افراد کی آبادی زیادہ ہے اور اسی علاقے سے ہی بھارتی یاتری تبت کے علاقے میں مذہبی عبادات کے لیے جاتے ہیں، گزشتہ ہفتے بھی تبت جانے والے ہندوستانی یاتروں کو بیجنگ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر روک دیا تھا۔

چین کے صدر کا جنگی تیاری کا حکم

خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنی فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدترین صورت حال نمٹنے کا بندوبست کرلیا جائے، جب کہ چینی صدر نے فوج کو بھی جنگ کی تیاری کا حکم دے دیا۔ فوج کو اسٹینڈ بائی پر رکھنے کا فیصلہ منگل کو ہونے والے اہم سیکیورٹی اجلاس میں کیا گیا۔ چین کے صدر کا کہنا تھا کہ ہر طرح کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب چین نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے لداخ میں متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کرلیا، جب کہ سکم بارڈر پر بھی مزید 5000 چینی فوج تعینات کردی گئی ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے متنازع علاقہ کا اسٹیٹس یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ علاقے میں بھارت کی جانب سے بڑھتی خفیہ کارروائیوں اور جارحیت روکنے کیلئے چینی فوج نے زمین دوز بنکر بھی بنانے شروع کردیئے ہیں، جب کہ وادی گالوان کے اطراف میں چینی فوج کے 8 سو خیمے دیکھے گئے ہیں، جب کہ بھارت کی جانب 60 ٹینٹس لگائے گئے ہیں۔

دونوں اپنے دفاع کی تیاری کر رہے ہیں اور چینی ٹرکز علاقے میں آلات کی نقل و حرکت کر رہے ہیں جس کی وجہ سے آمنا سامنا ہونے کی تشویش بڑھ رہی ہے۔ چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’چین اپنی علاقائی خود مختاری کا تحفظ سمیت چین اور بھارت کے سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام قائم کرنے کے لیے پر عزم ہے، تاہم بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی رائے سامنے نہیں آئی۔

متنازعہ علاقے سے متعلق چین کا کہنا ہے کہ بھارت وادی گالوان کے قریب دفاع سے متعلق غیر قانونی تعمیرات کر رہا ہے۔ چينی فوج نے بھارتی فوج کے ایک دستے کو گرفتار کر لیا جسے بعد میں رہا کر دیا گیا۔ جس پر بھارتی آرمی چیف نے کارروائی کو بھارت کیلئے شدید جھٹکا قرار دیا ہے۔

بھارتی میڈیا نے ایسی تصاویر جاری کیں ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جہاں پہلے ہندوستانی فوج موجود تھی، وہاں اب چینی فوج موجود ہے۔ یہ معاملہ 5 مئی کو شروع ہوا تھا، جب مشرقی لداخ کی سرحد پر بھارتی اور چینی فوجی آمنے سامنے آ گئے تھے۔

ادھر بھارت کا نیپال کے ساتھ سرحدی تنازع بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ نیپالی وزیراعظم نے نیا نقشہ جاری کیا ہے جس میں کالا پانی، لمپیا دھورا اور لیپو لیکھ کے علاقے کو نیپال کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت اور چین کے درمیان ہمالیائی سرحدی تنازع پر کشیدگی بھارت کی نئی سڑکوں اور ہوائی پٹیوں کی تعمیر کی وجہ سے سامنے آئی۔

بھوٹان پر تنازعہ

سال2018 میں چین اور بھارت کے درمیان بھوٹان کے معاملے پر فوجی کشیدگی سامنے آئی تھی۔ بیجنگ بھارت اور بھوٹان کی سرحدوں سے ملنے والے اپنے علاقے میں ایک روڈ تعمیر کر رہا تھا، اس علاقے کی بھارتی ریاست سکم سے ملتی ہیں جس پر بھارت اور بھوٹان نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

بھارت سے پہلے بھوٹان نے بھی سڑک کی تعمیر پر چینی حکومت سے احتجاج کیا تھا، اگرچہ تھمپو اور بیجنگ کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود بھوٹان نے سڑک کی تعمیر کو اپنی سلامتی کے خلاف قرار دیا تھا۔

چین کی وزارت خارجہ نے بھارت کو متعدد بار خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئی دہلی اپنی فوج چین کے علاقوں سے پیچھے ہٹائے، اور بیجنگ برطانوی راج میں 1890 ہونے والے معاہدے کے تحت سڑک تعمیر کرنے کا حق رکھتا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube