Tuesday, July 7, 2020  | 15 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > بین الاقوامی

فیس بک کی سری لنکامسلم کش فسادات میں کردار پرمعذرت

SAMAA | - Posted: May 14, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: May 14, 2020 | Last Updated: 2 months ago

فیس بک انتظامیہ نے اپنے پلیٹ فارم سے مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز تقاریر اور افواہوں کے پھیلاؤ کے نتیجے میں سری لنکا میں 2 برس قبل ہونے والے مسلم کش فسادات پر معافی مانگ لی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے رپورٹ کے مطابق 2018ء کے اوائل میں سوشل میڈیا پر مسلمانوں کیخلاف نفرت اور غصے کی آگ بھڑکائے جانے کے بعد سری لنکا میں فسادات پھوٹ پڑے تھے، جس کے نتیجے میں سری لنکن حکومت نے ملک میں ایمرجینسی نافذ کرتے ہوئے فیس بک کی رسائی بھی بلاک کردی تھی۔

بعد ازاں فیس بک نے معاملے کی تحقیقات کیں جس سے فیس بک کے ذریعے اشتعال انگیز مواد کی تشہیر کے باعث فسادات پھوٹ پڑنے میں پلیٹ فارم کا کردار سامنے آیا تھا۔

منگل کو تحقیقات کی رپورٹ آنے کے بعد فیس بک انظامیہ کا اپنے ایک بیان میں کہنا ہے کہ اپنے پلیٹ فارم کے غلط استعمال پر ہمیں افسوس ہے، ہم اس سے انسانی حقوق پر مرتب ہونیوالے اثرات کو تسلیم اور اس پر معذرت کرتے ہیں۔

سال 2018ء میں سنہالی بدھوں کی اکثریت رکھنے والے ملک سری لنکا کے خصوصاً وسطی حصے میں مساجد اور مسلمان تاجروں کی املاک کو نذر آتش کیا گیا تھا اور ان فسادات میں 3 افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے کے علاوہ 20 کو زخمی بھی کیا گیا تھا۔

ان تحقیات کیلئے آرٹیکل ون نامی انسانی حقوق سے متعلق مشاورتی ادارے کی خدمات حاصل کی گئی تھیں، جس کا کہنا تھا کہ نفرت انگیز تقاریر اور افواہیں ملک میں فسادات کا باعث بنی ہوں گی۔

مشاورتی ادارے کا یہ بھی کہنا تھا کہ فسادات کے آغاز سے قبل فیس بک انتظامیہ ایسے نفرت انگیز مواد کو اپنے پلیٹ فارم سے ہٹانے میں ناکام رہی، جس کے باعث نفرت انگیز تقاریر اور دیگر اقسام کی ہراسگی نا صرف اپنی جگہ موجود رہی بلکہ اس کے اثرات بھی پھیلتے رہے۔

آرٹیکل ون کا کہنا تھا کہ 2018ء میں بلوائیوں نے حملوں کو ترتیب دینے کی خاطر فیس بک کا استعال کیا اور فیس بک کے پاس سنہالی زبان میں اپ لوڈ ہونیوالے مواد کو پڑھ سکنے والے صرف دو افراد موجود تھے۔ سنہالی سری لنکا کی اکثریت کی زبان ہے اور اسی سے تعلق رکھنے والے عناصر ان فسادات کے پیچھے تھے۔

ایک رپورٹ کے مطابق سری لنکا میں فیس بک استعمال کرنیوالے صارفین کی یومیہ تعداد 44 لاکھ ہے۔

فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ سری لنکا میں متواتر ری شیئر ہونے والے ایسے مواد کی ترسیل کم کر رہے ہیں جو اکثر کلک بیٹ اور غلط معلومات پر مبنی ہوتے ہیں۔

انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اس نے سنہالی زبان بولنے والوں سمیت مزید افراد کی خدمات حاصل کرنے کے ساتھ کمزور و غیر محفوظ طبقے کے بچاؤ کیلئے مشاہداتی ٹیکنالوجی کا بھی آغاز کردیا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
SRI LANKA, ANTI MUSLIM RIOT, SINHALIS, BUDHIST, FACEBOOK,
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube