ہوم   > بین الاقوامی

کرونا کا خوف، 3لاکھ افراد نے تمباکونوشی چھوڑ دی

SAMAA | - Posted: May 9, 2020 | Last Updated: 3 weeks ago
SAMAA |
Posted: May 9, 2020 | Last Updated: 3 weeks ago

برطانیہ میں کرونا وائرس کے خوف سے 3 لاکھ سے زائد افراد نے تمباکونوشی چھوڑ دی اور 24 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے پہلے کے مقابلے میں کم کردی ہے۔

کرونا کے سبب متاثرہ افراد اور اموات کی سب سے زیادہ تعداد کے لحاظ سے امریکا کے بعد برطانیہ کا دنیا بھر میں دوسرا نمبر ہے جہاں اب تک 30 ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔

برطانیہ میں ’یُو گوو‘ نامی ادارے کی جانب سے کیے گئے سروے کے نتائج کے مطابق کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں متوقع اثرات کے خوف سے 3 لاکھ سے زیادہ افراد نے سگریٹ نوشی کو خیرباد کہا۔ ان کے علاوہ 5 لاکھ سے زیادہ افراد نے گھر میں قرنطینہ کے دوران اپنی سگریٹ نوشی کی خواہش کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی جبکہ 24 لاکھ افراد نے عملی طور پر سگریٹ نوشی کو کم کر دیا۔

سروے میں شامل افراد میں سے 27% کا کہنا ہے کہ وہ اب سگریٹ نوشی چھوڑنے کے حوالے سے زیادہ قائل ہو چکے ہیں۔ ماضی کے سگریٹ نوش افراد میں ایک چوتھائی نے باور کرایا ہے کہ ان کے سگریٹ نوشی دوربارہ شروع کرنے کے مواقع اب کم ہو گئے ہیں۔ اس کے مقابل صرف 4% افراد نے کہا کہ گوشہ تنہائی اختیار کرنے سے ان کی سگریٹ نوشی کی عادت میں اضافہ ہو گیا۔

عالمی ادارہ صحت نے رواں سال مارچ کے اواخر میں کہا تھا کہ سگریٹ نوشی سے انسان کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کے مواقع مزید بڑھ جاتے ہیں جبکہ تمباکونوشی سے انسان کا نظامِ تنفس کمزور ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے مواقع بڑھ جاتے ہیں کیوں کہ یہ وبائی مرض خاص طور پر انسان کے پھیپھڑوں پر حملہ کرتا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube