Thursday, October 29, 2020  | 11 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

کرونا: امریکا میں گھریلو جھگڑوں میں اضافہ

SAMAA | - Posted: Apr 4, 2020 | Last Updated: 7 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 4, 2020 | Last Updated: 7 months ago

امریکا میں کرونا وائرس کی وبا کے پیش نظر زیادہ تر لوگوں کے گھروں میں رہنے سے گھریلو جھگڑوں اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق کئی شہروں میں گھریلو تشدد کے واقعات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیا ہے اور اس حوالے سے مقامی ہاٹ لائنز پر کالز بھِی موصول ہو رہی ہیں۔

نیشنل ڈومیسٹک وایولینس ہاٹ لائن کی چیف ایگزیکٹو آفیسر کیٹی رے جونز کا کہنا ہے کہ گھریلو جھگڑے اور تشدد کے واقعات تیزی سے جڑ پکڑ رہے ہیں اوران پر قابو پانا مشکل نظر آ رہا ہے۔

سی این این نے 20 بڑے شہروں کے اعداد و شمار اکٹھے کئے جن میں سے 9 شہروں میں مارچ کے دوران گزشتہ ماہ یا سن 2020 کے دیگر مہینوں کی بہ نسبت خاصا اضافہ ہوا ہے۔

پورٹ لینڈ میں گھریلو تشدد کے نتیجے میں ہونے والی گرفتاریوں میں 12 سے 23 مارچ کے دوران گزشتہ سال کے اسی دورانیہ کے مقابلے میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ  بوسٹن میں ایسے واقعات میں مارچ 2019 کے مقابلے میں مارچ 2020 میں 22 فیصد اور سیٹل میں 21 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اس حوالے سے اس تشویش کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں متاثرہ لوگ چونکہ تشدد کرنے والوں کے بہت نزدیک ہوتے ہیں لہذا بہت سوں کیلئے مدد حاصل کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔

یونیورسٹی آف ڈینور کے شعبہ نفسیات کی پروفیسر این ڈی پرنس کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں جتنا اب تک سامنے آیا ہے حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ ہو رہا ہوگا۔

تقریباً 95 فیصد امریکی ان دنوں گھروں پر ہی ہیں جس کی وجہ سے گھریلو جھگڑوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ دیگر شہروں بشمول پٹسبرگ، اوکلوہامہ، سینٹ انتونیو، اوماہا اور کنساس میں بھی مارچ 2019 کی نسبت مارچ 2020 میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔

گھریلو تشدد کے حوالے سے موصول ہونے والی فون کالز میں بھی نمایاں طور پر اضافہ ہو رہا ہے اور کالر خواتین کا کہنا ہوتا ہے کہ اس وبا نے ان کی صورتحال پہلے سے بد تر کردی ہے۔

ایک خاتون کالر کا کہنا تھا کہ ان کے پارٹنر نے ان کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی لیکن وہ وائرس کے خوف کے باعث اسپتال نہیں جانا چاہتیں۔

ایک اور خاتون کالر کا کہنا تھا کہ جب وہ اپنی نوکری پر جانے کیلئے تیار ہو رہی تھیں تو ان کے پارٹنر نے پستول لوڈ کرلی اور کہا کہ وہ باہر بالکل نہیں جاسکتیں۔

گھریلو تشدد کے حوالے سے کام کرنے والی ایک سماجی کارکن رہونڈا واس کا کہنا ہے کہ تشدد کی شکار مظلوم خواتین کیلئے گھر سے پاہر نکلنا بلا شبہ سکھ کا باعث ہوگا لیکن موجودہ حالات میں یہ سہولت اتنی میسر نہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube