Saturday, October 31, 2020  | 13 Rabiulawal, 1442
ہوم   > بین الاقوامی

ٹرمپ نےامریکامیں کروناسے2لاکھ اموات کا خدشہ ظاہرکردیا

SAMAA | - Posted: Mar 30, 2020 | Last Updated: 7 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 30, 2020 | Last Updated: 7 months ago

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں کرونا وائرس سے 2 لاکھ سے زائد افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 2 ہفتوں میں کرونا کی وبا اپنی حدوں کو چھو سکتی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں بڑھتے کرونا وائرس کے کیسز اور ہلاکتوں پر لاک ڈاؤن میں توسیع کردی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن اب 30 اپریل تک جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا میں 2.2 ملین افراد کی کرونا وائرس سے ہلاکت کا خدشہ ہے، اگر اموات اس قدر بھی روک لی گئیں تو بڑی کامیابی ہوگی۔

واشنگٹن میں پریس کانفرنس سے خطاب میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ہم نے روزانہ کی بنیاد پر 50 ہزار ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا آغاز رواں ہفتے سے کردیا جائے گا، دنیا میں ابھی تک کوئی ملک ایک دن میں اتنے زیادہ ٹیسٹ نہیں کر رہا۔

رپورٹ کے مطابق امریکا میں کرونا متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔ امریکا میں امراض کے کنٹرول اور انسداد کے نگران ڈاکٹر فاؤچی کا کہنا ہے کہ کرونا سے ملک بھر میں 2 لاکھ سے زیادہ امریکی ہلاک ہو سکتے ہیں، جو موجودہ تعداد کا 50 گنا ہے۔ سی این این سے گفتگو میں داکٹر فاؤچی کا کہنا تھا کہ یہ اندازہ مختلف ماڈلز کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک سرکاری طور پر ایک لاکھ 24 ہزار متاثرین کی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کووِڈ 19 کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 2231 سے تجاوز کرچکی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے وہ خاصا خوفناک ہے۔ پہلے1 ہزار افراد 1 ماہ کے دوران ہلاک ہوئے، جب کہ بقیہ 1 ہزار افراد صرف 2 دن میں ہلاک ہوئے ہیں۔

کرونا کے خلاف قائم ٹاسک فورس کے سربراہ اور نائب صدر مائیک پینس نے کہا کہ وہ اس مرض کے پھیلاؤ کے بارے میں جلد ہی سرکاری ڈیٹا جاری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک لاکھوں افراد کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں اور ان میں سے دس فی صد کے نتیجے مثبت آئے ہیں۔

دوسری طرف ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ امریکا سرد بازاری کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ کرونا وائرس کے خاتمے کے بعد امریکی معیشت تیزی سے بحال ہونے کی اہلیت رکھتی ہے، تاہم ابھی ایسا کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ ماہرین نے امریکا میں حالیہ صورت حال کے منفی اثرات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا میں خود کشیوں، کساد بازاری، ڈپریشن اور نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہوگا۔

قرنطینہ کی ضرورت نہیں پڑے گی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے سب سے زیادہ متاثرہ شہر نیویارک سمیت بڑے شہروں کو مکمل لاک ڈاؤن نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ قرنطینہ ضروری نہیں بلکہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ نیویارک، نیوجرسی اور کنیکٹیکٹ جیسے شہروں کے رہائشی آئندہ 14 دنوں تک غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ نیویارک کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہے۔ امریکا میں اس انفیکشن کے شکار افراد کی تعداد 1 لاکھ 24 ہزار ہے، جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 2200 تک پہنچ چکی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube