ہوم   > بین الاقوامی

ٹرمپ زندگی کے بڑے امتحان میں کیسے ناکام ہوئے

SAMAA | - Posted: Mar 29, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 29, 2020 | Last Updated: 2 months ago

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کرونا وائرس کی وبا کے خطرے سے آگاہ تھے لیکن ان میں لیڈرشپ کے فقدان نے ملک کو ایک خطرناک ہیلتھ ایمرجنسی سے دوچار کردیا ہے۔

صدر ٹرمپ اپنی زندگی کے سب سے بڑے امتحان میں کس طرح ناکام ہوئے اس بات کا جائزہ گارجین نے اپنی ایک رپورٹ میں لیتے ہوئے کہا ہے کہ جب کرونا وائرس کی اس عالمی وبا کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں 20 جنوری 2020 کے دن کو ایک نمایاں اہمیت حاصل ہوگی۔ یہ وہ دن تھا جب حال ہی میں چین کے شہر ووہان سے واشنگٹن لوٹنے والا ایک 35 سالہ شخص وہ پہلا آدمی بنا جو امریکا میں کرونا پازیٹیو قرار پایا۔ اسی روز امریکا سے 5 ہزار کلومیٹر کی دوری پر واقع ایک ایشیائی ملک جنوبی کوریا میں کوویڈ 19 کے پہلے متاثرہ مریض کی تصدیق ہوئی۔ دونوں ملکوں میں کرونا کے حوالے سے یہ مشترک بات تھی لیکن پھر اس کے بعد مماثلتوں کا سلسہ ختم ہوگیا۔

پہلے مریضوں کی تشخیص کے اگلے دو ماہ کے دوران امریکا اور جنوبی کوریا کی جانب سے کرونا کی وبا کا سامنا اور سد باب کرنے کے انداز میں زمین اور آسمان کا فرق تھا۔

دونوں میں سے ایک ملک یعنی جنوبی کوریا نے کمال تیزی اور جارحانہ انداز میں اس وائرس کو تلاش اور آئسولیٹ کرنا شروع کردیا جبکہ دوسرا ملک امریکا اپنے لیڈرکی عاقبت نااندیشی کے باعث تاخیر، افراتفری اور الجھن کا شکار رہا اور اب ایک خطرناک ہیلتھ ایمرجنسی کا سامنا کر رہا ہے۔

پہلے کیس کی تشخیص ہونے کے ایک ہی ہفتے کے اندر جنوبی کوریا نے 20 پرائیویٹ کمپنیوں کو اکٹھا کیا اور انہیں ہدایت کی کہ برق رفتاری کے ساتھ کرونا وائرس کا تشخیصی ٹیسٹ تیار کریں اور اس کے ایک ہی ہفتے میں وہ تیاری اور منظوری کے بعد میدان عمل میں اترگیا اور وائرس سے متاثرہ افراد کی تشخیص اور انہیں قرنطینہ میں رکھنے کا کام تیزی سے شروع ہوگیا۔

اس کے بعد ساڑھے 3 لاکھ سے زائد ٹیسٹ ہوئے اور جنوبی کوریا نے کرونا وائرس کے خلاف جنگ تقریباً جیت لی جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جمعہ 27 مارچ  کو 5 کروڑ کی آبادی والے ملک میں صرف 91 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

اس حوالے سے امریکا کا عمل ایک بالکل مختلف کہانی پیش کرتا ہے۔ پہلے کیس کی تشخیص کے بعد واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ ٹی وی پر آن ائیر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے اس پر مکمل قابو پا لیا ہے۔ صرف ایک شخص ہے وہ بھی چین سے لوٹا تھا۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ آج امریکا میں کرونا کے ایک لاکھ سے زائد مریض ہیں اور230 سے زائد اموات ہوچکی ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube