ہوم   > صحت

آکسفورڈ یونیورسٹی کی کرونا پر تحقیق تازہ ہوا کا جھونکا

SAMAA | - Posted: Mar 26, 2020 | Last Updated: 2 weeks ago
SAMAA |
Posted: Mar 26, 2020 | Last Updated: 2 weeks ago

دنیا کرونا وائرس کے باعث ان دنوں جس کرب سے گزر رہی ہے اس دوران آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین کی ایک رپورٹ تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر افراد میں اس بیماری کی مدافعت پہلے ہی پیدا ہو چکی ہے اور انہیں یا تو یہ وائرس بالکل بھی متاثر نہیں کرے گا یا پھر اس کے بہت ہلکے اثرات مرتب ہونگے۔

فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق محققین کا کہنا ہے کہ یہ کرونا وائرس کی وبا گزشتہ اندازوں کے مقابلے میں اپنی اگلی اسٹیج میں ہے اور یہ دنیا میں اب تک سامنے آنے والی متاثرین کی تعداد سے کہیں زیادہ کو انفیکٹ کر چکی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی ماہی وبائیات اور مذکورہ تحقیق کی سربراہ سونیترا گپتا کا کہنا ہے کہ اگر یہ تحقیق بالکل درست ہے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ اس وائرس سے انفیکٹ ہونے والے ایک ہزار لوگوں میں سے ایک سے بھی کم ایسے ہوتے ہیں جنہیں اسپتال میں علاج کی ضرورت پیش آتی ہے۔

اس تحقیق کا فوکس برطانیہ ہے جہاں اس رپورٹ کے مطابق آدھی سے زیادہ آبادی اب تک اس وائرس سے انفیکٹڈ ہوچکی ہوگی جس کا مطلب یہ ہے کہ ان متاثرین کی اکثریت پر اس وائرس کا بہت ہی معمولی یا بالکل کوئی اثر نہیں ہوا۔

اس رپورٹ کے درست ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ دنیا کے بیشتر افراد میں اس وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہوچکی ہے۔ سونیترا کا کہنا ہے کہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں کے اینٹی باڈی ٹیسٹ کئے جائیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کس کا واسطہ اس وائرس سے پڑا ہوگا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube