ہوم   > بین الاقوامی

اٹلی میں چینیوں کےساتھ متعصبانہ رویہ

SAMAA | - Posted: Mar 25, 2020 | Last Updated: 2 weeks ago
SAMAA |
Posted: Mar 25, 2020 | Last Updated: 2 weeks ago

تصویر: گارجین ویب سائٹ

کرونا وائرس کی وبا کا آغاز گو چین سے ہوا تاہم اس کا شکار اب دنیا کے تقریباً تمام ممالک ہوچکے ہیں۔ اس وائرس کے باعث لقمہ اجل بن جانے والے ابتداء میں چین میں ہی زیادہ تھے لیکن ان دنوں مرنے والوں کی تعداد اٹلی میں سب سے زیادہ ہے۔ اس صورتحال کے باعث ان دنوں اٹلی میں چین کیخلاف نفرت دیکھی جا رہی ہے اور بیشتر ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جن میں اطالوی شہری چینیوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے انہیں طنز اور تشدد کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔

گارجین کی ایک رپورٹ کے مطابق اطالوی شہر پراتو کی ایک کونسلر الاریا سانٹی کو فروری کے آغاز میں ٹسکنی میں واقع ایک پرائمری اسکول کی کینٹین جانے کا اتفاق ہوا جہاں بیٹھی ایک چینی بچی نے ان سے ایک غیر متوقع سوال کیا کہ کیا آپ کو میرے برابر میں بیٹھ کر کھانا کھاتے ڈر نہیں لگتا۔
انہوں نے بچی سے پوچھا مجھے ڈر کیوں لگے گا جس پر اس نے جواب دیا کہ اس وجہ سے کہ کہیں میں آپ کو کرونا وائرس نہ لگا دوں۔ اس پر الاریا کا کہنا تھا کہ وائرس بد قسمتی سے لوگوں کے دماغ میں ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایک اور چینی بچے نے پوچھا کہ کیا میں بھی آپ کے پاس بیٹھ سکتا ہوں جس پر انہوں نے کہا کہ بالکل بیٹھ سکتے ہو۔
اس علاقے میں جہاں چینوں کی کثیر تعداد رہتی ہے ان دنوں اس قسم کی گفتگو اکثر سننے میں آتی ہے۔
پراتو میں چینی برادری کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل بدھ مت کے مندر پو ہوا سی کے سیکریٹری داوید فینیٹزیو کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ ہفتوں سے اسکولوں میں چینی بچوں کو ‘سینا وائرس’ کہہ کر مخاطب کیا جا رہا ہے اور دیگر شاگردوں کی جانب سے ان بچوں سے تلخ کلامی اور ان سے مار پیٹ کرنے کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔
داوید فینیٹزیو اس امتیازی سلوک کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس تعصب کو ختم کرنے کیلئے وہ چینی لوگوں کو اطالوی اسپتالوں میں ماسک اور سینیٹائزر تقسیم کرنے پر راغب کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہہ وہ ایسے لوگوں کو بھی جانتے ہیں جنہوں نے چین واپس جانے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ وہ خود کو محفوظ تصور کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ افراد تو پہلے ہی اٹلی چھوڑ چکے ہیں اور دیگر نے چین کیلئے فضائی ٹکٹ لے لئے ہیں۔
تاہم ایک چینی نژاد اطالوی اور پراتو کے کونسلر مارک وانگ کا کہنا ہے کہ اس نقل مکانی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چینیوں کی ایک بڑی تعداد پراتو میں ٹیکسٹائل کی صنعت سے وابستہ ہے اور کرونا وائرس کے باعث کاروبار کو خاصا دھچکا لگا ہے اور بہت سی فیکٹریاں بند اور لوگ بیروزگار ہوئے ہیں۔
شمالی اٹلی میں جہاں ملک بھر میں رہنے والے تین لاکھ 10 ہزار چینیوں کی نصف سے زائد آبادی رہائش پذیر ہے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران غیر ملکیوں سے نفرت اور ان سے امتیازی سلوک کے لاتعداد واقعات رونما ہوئے ہیں۔ اٹلی کے شمال میں واقع ایک شہر بسانو ڈیل گراپا کے نزدیک ایک بار کے مالک چین ژانگ نے بتایا کہ جب وہ ایک پٹرول پمپ گئے تو وہاں انہیں داخل ہونے نہیں دیا گیا اور ان پر ایک بوتل سے حملہ بھی کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حملہ آوروں کا کہنا تھا کہ تم ایک چینی ہو اور تم میں کرونا وائرس ہے۔
ایک اطالوی روزنامے لا استامپا میں ٹیورن کا ایک واقعہ رپورٹ ہوا جس کے مطابق ایک چینی جوڑے چن اور یی پر دو اطالوی نوجوانوں نے بوتلوں سے حملہ کیا جس کے بعد وہ اسپتال بھی اس ڈر سے نہیں گئے کہ کہیں وہاں بھی ان کے ساتھ امتیازی سلوک نہ برتا جائے۔ ان حلمہ آوروں نے دونوں سے کہا تھا کہ تم لوگ انسان نہیں بلکہ ایک وائرس ہو۔ اس جوڑے کا کہنا تھا کہ محض اس وجہ سے کہ ہم چین میں پیدا ہوئے ہم سے ایسا برتاو کیا جا رہا ہے گویا ہم انسان نہیں کوئی بیماری ہوں۔ میلان میں بھی ایک 29 سالہ چینی پر حملہ کیا گیا۔ حملہ آور اس موقع پر چیختا رہا کہ تم کرونا وائرس ہو۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube