Friday, September 24, 2021  | 16 Safar, 1443

افغانستان میں 2صدور:کیا قیام امن خواب ہی رہے گا؟

SAMAA | - Posted: Mar 11, 2020 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Mar 11, 2020 | Last Updated: 2 years ago

افغانستان کے نو منتخب صدر اشرف غنی نے انتخابات کے 6 ماہ بعد بالآخر 9 مارچ کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا تاہم ان کے سیاسی حریف عبداللہ عبداللہ نے بھی اسی روز خود کو سربراہ قرار دے دیا جس سے ملک میں ایک نیا بحران کھڑا ہوگیا ہے۔

الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق بہ بحیثیت صدر اشرف غنی کی یہ دوسری ٹرم ہے تاہم انتخابات میں دھاندلی کے الزامات بھی لگے اور پولنگ ریٹ بھی خاصا کم رہا اور دوسری جانب عبداللہ عبداللہ نے ستمبر میں ہونے والے انتخابات کو فراڈ قرار دیتے ہوئے ایک متوازی تقریب حلف برداری منعقد کی اور ملک کے سربراہ کا حلف اٹھالیا۔

یاد رہے کہ 29 فروری کو امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدہ طے پایا جس کا مقصد امریکا کی جانب سے افغانستان میں ایک طویل عرصہ سے برپا جنگ کا خاتمہ ہے۔

امریکا اور طالبان کے درمیان اس معاہدے پر قطر کے دارالخلافے دوحہ میں دستخط ہوئے تھے جس کے تحت توقع تھی کہ طالبان سمیت افغانستان کے مختلف گروپس مذاکرات کے ذریعے ملک میں امن کو یقینی بنائیں گے۔ معاہدے کے تحت افغانستان سے تمام غیر ملکی فوجیوں کا 14 ماہ کے اندر انخلاء ہونا ہے اور اس سلسلے میں امریکا نے اپنے فوجی واپس بلانے کے عمل کا آغاز کردیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ سیاسی صورتحال یعنی ملک میں بیک وقت دو صدور کا ہونا طالبان سے مذاکرات کے دوران حکومت کی پوزیشن کمزور کردے گا۔

اشرف غنی کے آئندہ اقدامات کیا ہونگے؟

اشرف غنی کا پلہ عبداللہ کے مقابلے میں اس وجہ سے قدرے بھاری ہے کہ انہیں امریکا کے خصوصی نمائندے خلیل زلمے زاد اور نیٹو فورسز کمانڈر اسکاٹ ملر کی حمایت حاصل ہے۔

اشرف غنی نے اپنے پہلے اعلان میں ایک مذاکراتی ٹیم کی تشکیل کا عندیہ دیا تھا جو افغانستان کے مختلف گروپس سے امن کے حوالے سے بات چیت کرے گی تاہم موجودہ صورتحال میں یہ معاملہ اب تاخیر کا شکار ہوگیا ہے۔ یہ مذاکرات منگل 10 مارچ کو کسی نامعلوم مقام پر منعقد ہونے تھے۔

امریکا کے سیکریٹری اسٹیٹ مائک پومپیو نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایک متوازی حکومت کے قیام اور سیاسی اختلافات کیلئے کسی طاقت کے استعمال کا شدید مخالف ہے۔ ان کا یہ رد عمل زلمے کی دونوں لیڈروں کو آپس میں سمجھوتہ کرنے پر رضامند کرنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد سامنے آیا۔

اشرف غنی جنہوں نے پہلے امریکا اور طالبان کے مابین قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل کو ماننے سے انکار کردیا تھا اب کہتے ہیں کہ انہیں امن کی بحالی کے عمل کو آگے بڑھانے کی خاطر قیدیوں کو رہا کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ انہوں نے حلف اٹھانے کے بعد اپنے خطاب میں قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے اعلان کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا۔

عبداللہ عبداللہ کے پاس کیا آپشنز ہیں؟

یہ تیسرے صدارتی انتخابات ہیں جس میں عبداللہ کو ناکامی ہوئی اور اس کے بعد انتخابی عمل کے دوران دھاندلی کے الزامات عائد ہوئے۔

یہ تیسرے صدارتی انتخابات ہیں جس میں عبداللہ کو ناکامی ہوئی اور اس کے بعد انتخابی عمل کے دوران دھاندلی کے الزامات عائد ہوئے۔

عبداللہ افغانستان میں ایک نمایاں لیڈر کی حیثیت سے ابھرے ہیں جنہیں مختلف نسلی گروہوں کی سیاسی حمایت حاصل ہے۔ حلف اٹھانے کے بعد اپنے خطاب میں انہوں نے بھی قیام امن کے عمل کے حوالے سے اپنے عزم کا اظہار کیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی چپقلش کے باعث افغانستان کے مختلف گروپوں سے مذاکرات کیلئے ایک جامع ٹیم کی تشکیل کی راہ میں رکاوٹ حائل ہوسکتی ہے۔

کابل سے تعلق رکھنے والے ایک سیاسی مبصر فیض محمد زلاند کا کہنا ہے کہ عبداللہ کو ایسے کلیدی رہنماؤں کی حمایت حاسل ہے جو اشرف غنی کے ایجنڈے کی مخالفت اور اس راہ میں روڑے اٹکا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس بات سے اشرف غنی کو تن تنہا انٹرا افغان بات چیت میں خاصی دشواری کا سامنا ہوگا اور دوسری اہم بات یہ کہ طالبان بھی کسی ایسی مذاکراتی ٹیم کو تسلیم یا اس سے بات نہیں کریں گے جس کی مخالفت باقی ماندہ لیڈرز کر رہے ہیں۔

ایک اور تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ عبداللہ کو دیوار سے لگانا قیام امن کے عمل کیلئے کوئی اچھا شگون نہیں ہوگا۔

صدر اشرف غنی کے سابق سینئر نائب مشیر اور نیٹو کے سینئر ایڈوائزر محمد شفیق حمدان کا خیال ہے کہ امریکا نے انتخابات کے حوالے سے عبداللہ کے تحفظات پر کان نہیں دھرے اور حلف برداری والی تقریب میں امریکی سفارتکاروں کی عدم موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکا نے عبداللہ پر سے ہاتھ اٹھالیا ہے جو اس بات کا پیش خیمہ ہے کہ عبداللہ امریکا اور اس کے طالبان سے ہوئے امن معاہدے کی مخالفت کریں گے۔

محمد شفیق نے مزید کہا کہ اس بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ عبداللہ ان بیشتر لیڈرز اور مجاہدین کے رہنما ہیں جنہوں نے طالبان کا مقابلہ کیا لہذا افغانستان کے گروپوں سے مذاکرات کیلئے عبداللہ کی معاونت اور انہیں اعتماد میں لینا انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

امریکا کہاں کھڑا ہے؟

امریکا کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان سے فوجیوں کے انخلاء کے عمل کو آگے بڑھا رہا ہے۔ افغانستان میں موجود امریکی فورسز کے ترجمان کرنل سونی لیگیٹ کے مطابق 135 دنوں میں 8 ہزار 600 فوجی واپس بلا لئے جائیں گے جبکہ 14 ماہ میں فوجیوں کا افغانستان سے مکمل انخلاء ہوجائے گا۔

فی الوقت افغانستان میں 13 ہزارامریکی فوجی موجود ہیں جن میں سے 8 ہزار افغان نیشنل سیکورٹی فورسز کی تربیت کے عمل میں مصروف ہیں۔

اس تمام صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے شفیق حمدان نے تبصرہ کیا ہے کہ افغان حکومت تباہی و ناکامی کے دہانے پر ہے اور یہ دو صدور ملک کو ایک خونیں خانہ جنگی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube