ہوم   > بین الاقوامی

دہلی فسادات:مودی نےبھائی چارے کی اپیل کردی،حملوں میں20 افرادہلاک

SAMAA | - Posted: Feb 26, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Feb 26, 2020 | Last Updated: 1 month ago

مسجد پر ہندو ترنگا لہرا دیا

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کردی۔ بھارتی پولیس اور دیگر ایجنسیاں صورتحال نارمل کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ حالات قابو میں کرنے کا ٹاسک اجیت دوول کو دے دیا گیا ہے۔

سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بھارتی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کونسل میٹنگ میں تمام تر صورت حال کا جائزہ لیا ہے۔ نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے واپس جانے کے بعد ہائی کورٹ کے حکم پرمسلم کش فسادات پر بیان دیتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نئی دہلی کی کشیدہ صورتحال کا جامع جائزہ لیا ہے۔

بھارتی وزیراعظم مودی نے امن اور ہم آہنگی کو بھارت کا اخلاقی مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہلی کے باسیوں سے اپیل ہے کہ وہ سے امن قائم رکھیں۔ شمال مشرقی دہلی میں کرفیو لگا کر کسی بھی شخص کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔

قبل ازیں بھارتی دارالحکومت نئی دلی میں آرایس ایس کے دہشت گرد مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔ مسجد پر دھاوا بولا۔ میناروں پر ہندو توا کے پرچم لگا دیئے۔ 2 روز میں ہلاک افراد کی تعداد 18 ہوگئی، جب کہ 200 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔

انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کے گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگائی۔ نئی دہلی کی کشیدہ صورتِ حال کے خلاف طلبہ کا وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج بھی کیا۔ نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے شہر کی صورتِ حال کو سنگین قرار دیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ میں کہا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود پولیس صورت حال کو قابو کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اروند کا مزید کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر کرفیو نافذ کرتے ہوئے فوج طلب کی جانی چاہیے۔ اس حوالے سے وہ وزیر داخلہ امت شاہ سے تحریری درخواست کر رہے ہیں۔

جب کہ دہلی کے متاثرہ علاقوں میں آج بدھ 26 فروری کو ہونے والے میٹرک اور انٹر کے پرچے ملتوی کردیئے گئے۔ پولیس اور نیم فوجی دستوں کا مختلف علاقوں میں گشت جاری ہے۔ منگل کے روز بھی مسلم اکثریتی علاقوں میں جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ 7 گھنٹے سے زیادہ عرصے تک جاری رہا۔

نئی دلی میں ہندو توا نظریے کے حامی انتہا پسندوں نے دہلی کے علاقے اشوک نگر کی مسجد پر دھاوا بول دیا اور حملہ کرکے اس کی حرمت کو پامال کردیا۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص مسجد کے مینار پر چڑھتے ہوئے ہندو انتہا پسند تنظیم کے جھنڈے لہرا رہا ہے۔

کئی افراد نے مینار پر چڑھ کر ہلال کے نشان کو اکھاڑنے کوشش کی، جب کہ ساتھ ہی مسجد کے لاؤڈ اسپیکر اتار کر زمین پر پھینک دیئے۔ انتہا پسندوں نے مسجد پر بھارتی ترنگا اور ہندوؤں کی مذہبی علامت سمجھا جانے والا پرچم لہرایا۔

نازک صورت حال پر بھارت کی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے شورش زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور پولیس کے اعلیٰ افسران سے ملاقاتیں کیں۔ اجیت دوول نے جعفرآباد، موج پور، سلام پور اور گوکلپور چوک کا دورہ کیا اور امن و امان کی صورتِ حال کا جائزہ لیا۔ نئی دہلی میں پرتشدد مظاہروں پر کابینہ کی سیکیورٹی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس آج بدھ کو ہو رہا ہے، جس میں قومی سلامتی کے مشیر ارکان کو صورتِ حال پر بریفنگ دیں گے۔

دوسری جانب صرف نئی دہلی میں ہی ہندوؤں کے حملے میں ہلاک افراد کی تعداد 18 ہوگئی ہے، جب کہ حملوں اور فسادات کے دوران 200 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔ نئی دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں متنازع شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر ہندو انتہا پسندوں کے حملے تاحال جاری ہیں۔

مقامی حکومت نے نئی دہلی کے فسادات والے علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے مسجد پر حملے کی مذمت کی ہے اور اسے ’بابری مسجد‘ جیسا سانحہ قرار دیا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے رات گئے دہلی کی صورتِ حال سے متعلق درخواست پر سماعت کی اور حکم جاری کیا کہ ہنگاموں کے دوران زخمی ہونے والوں کو علاج معالجے کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں۔ جسٹس ایس مرلیدھر کی سربراہی میں ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ آج دوبارہ معاملے کی سماعت کرے گا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خیال رہے کہ بھارتی اپوزیشن کی جانب سے دہلی فسادات کا ذمہ دار مقامی پولیس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما کپل مشرا کے اشتعال انگیز بیانات کو ٹھہرایا گیا ہے۔

پاکستان میں بھی شوبز شخصیات اور صدر مملکت عارف علوی نے اشوک نگر مسجد پر ہندو انتہاپسندوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بابری مسجد جیسا قرار دیا ہے۔

دہلی میں یہ احتجاج ایسے وقت میں شروع ہوئے جب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2 روزہ دورے پر بھارت میں موجود تھے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube