Saturday, July 4, 2020  | 12 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > بین الاقوامی

کشمیر پر بھارتی قبضے، مسلمان مخالف رویے کی تحقیقات کامطالبہ

SAMAA | - Posted: Feb 13, 2020 | Last Updated: 5 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 13, 2020 | Last Updated: 5 months ago

امریکی سینیٹرز نے بھارت میں مسلمان مخالف رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشمیر پر بھارتی قبضے اور شہریت قانون پر تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

امریکی سینیٹروں کے ایک گروپ نے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے نام ارسال کردہ مراسلے میں مقبوضہ کشمیر پر بھارت کی قبضہ پالیسی اور مسلمان مہاجرین کو شہریت قانون سے باہر رکھنے کے معاملے پر تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

ریپبلکن سینیٹر  لنزسے گراہم اور ٹوڈ ینگ جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر کرِس وان ہولن اور ڈِک ڈربن نے مائیک پومپو کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ بھارت کا مسلمان مخالف روّیہ تشویشناک ہے۔

خط میں امریکی سینیٹرز کا مزید کہنا ہے کہ بھارت میں مودی حکومت کی طرف سے مقبوضہ جمّوں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد 6 ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود علاقے میں انٹرنیٹ کی ترسیل وسیع پیمانے پر بند ہے، بھارت جمہوریت کی تاریخ میں اس وقت تک کا پہلا ملک ہے جو 7 ملین انسانوں کی صحت کی سہولیات، روزگار اور تعلیم  تک رسائی کو بند رکھے ہوئے ہے، اس کے علاوہ اہم سیاسی شخصیات سمیت سینکڑوں کشمیریوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔

مراسلے میں بھارت میں شہریت قانون کے رُو سے دیگر ممالک سے ہجرت کرنے والے مہاجرین کو شہریت کا حق دینے لیکن مسلمان مہاجرین پر اس قانون کا اطلاق نہ کرنے کے متنازع قانون کی تحقیق اور اس سے باہر رکھی جانیوالی اقلیتوں کی صورتحال سے متعلق رپورٹ کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

امریکی سینیٹرز نے خط کے ذریعے بھارت میں شہریت قانون کیخلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے انتہائی استعمال کی تحقیق کی بھی اپیل کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ 24 تا 25 فروری تک بھارت کا دورہ کریں گے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
MIKE POMPEO, US, SENATORS, INDIA, PAKISTAN, KASHMIR, ANTI MUSLIM LAW, CAA, INTERNET BANNED, HUMAN RIGHTS, RELIGIOUS FREEDOM
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube